.

’’عراق ،شام اور لیبیا میں ترکی کی مداخلت پرمصر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا نہیں رہے گا‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر خطے اور بالخصوص عراق ، شام اور لیبیا میں ترکی کی مداخلت پر ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھا رہے گا۔

یہ بات مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے بدھ کے روز عرب لیگ کے ایک ورچوئل وزارتی اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔ انھوں نے واضح کیا ہے کہ’’لیبیا میں جاری بحران کے مصر کی قومی سلامتی کے لیے براہ راست مضمرات ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ ہم نے لیبیا کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے ترکی کی مداخلت دیکھی اور اس کی نگرانی کی ہے۔اس سے نہ صرف لیبیا میں بلکہ پورے خطے میں تنازع طول پکڑے گا۔ترکی شامی علاقے سے شرپسندوں اور دہشت گردوں کو لیبیا میں منتقل کررہا ہے۔ وہ لیبیا میں بھی شام ایسی صورت حال پیدا کرنا چاہ رہا ہے۔‘‘

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق ترکی نے اب تک ہزاروں شامی جنگجوؤں کو لیبیا منتقل کیا ہے۔

سامح شکری کا کہنا تھا کہ ’’ترکی کی شمالی عراق ، شام اور لیبیا میں خواہشات کے مقابلے میں مصر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا نہیں رہے گا۔اس کے بجائے ہم نے ایک مؤقف اختیار کیا۔ہم نے سرت ،جفرا فرنٹ لائن کو ایک سرخ لکیر قراردیا تھا۔ہم کسی کوبھی اس لکیر کو،اس کی شناخت سے قطع نظر،عبور نہیں کرنے دیں گے۔ہم عرب ممالک کے اس ضمن میں حمایت پر شکرگزار ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ مصر کی پارلیمان نے 18 جولائی کو قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ملک سے باہر مسلح فوجیوں کو تعینات کرنے کی منظوری دی تھی تاکہ جرائم پیشہ مسلح ملیشیاؤں اور غیرملکی دہشت گرد عناصر کے مقابلے میں مصر کی قومی سلامتی کا تحفظ کیا جاسکے۔

مصر اور لیبیا کے درمیان طویل صحرائی سرحد واقع ہے۔مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے لیبیا میں جاری خانہ جنگی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے لیبیا میں فوجی مداخلت کی دھمکی دے رکھی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ترکی کی حمایت یافتہ فورسز نے سرت شہر پر قبضے کی کوشش کی تو مصر فوجی مداخلت کرے گا۔

صدر السیسی نے 20 جون کوکہا تھا کہ مصر کو لیبیا میں فوجی مداخلت کا قانونی حق حاصل ہے۔ انھوں نے فوج کو وقتِ ضرورت لیبیا میں فوجی کارروائیاں انجام دینے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا تھا۔

لیبیا میں 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے اور اس وقت ملک میں دو متوازی حکومتیں قائم ہیں۔ طرابلس میں وزیراعظم فائزالسراج کے زیر قیادت قومی اتحاد کی حکومت ہے۔اس کے تحت فورسز کی مشرقی لیبیا سے تعلق رکھنے والے جنرل خلیفہ حفتر کے زیرِ قیادت لیبی قومی فوج(ایل این اے) کے خلاف لڑائی جاری ہے۔

مصر کے علاوہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات خلیفہ حفتر کے حامی ہیں جبکہ ترکی جی این اے کی حمایت کررہا ہے۔ واضح رہے کہ مصری صدر نے جون میں لیبیا میں جنگ بندی کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا تھا لیکن اب تک اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

مصری پارلیمان کی منظوری کی بعد صدر السیسی بیرون ملک فوجیوں کو تعینات کرسکتے ہیں اور اس طرح لیبیا میں پہلی مرتبہ مصر اور ترکی کے درمیان براہ راست مسلح ٹاکرے کا امکان بڑھ گیا ہے کیونکہ ترکی کے مسلح دستے اور تربیت یافتہ شامی جنگجو پہلے ہی لیبیا میں موجود ہیں اور قومی اتحاد کی فورسز کے شانہ بشانہ خلیفہ حفتر کی فوج کے خلاف لڑرہے ہیں۔مصر عرب ممالک میں ترکی کی سیاسی اور فوجی مداخلت کا سخت مخالف ہے۔