.

"مینگروو" کا پودا تبوک کے ساحلی علاقوں میں آبی حیات کی بقا کا راز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شمالی ساحلی شہر تبوک اپنے عظیم حیاتیاتی تنوع کے لیے مشہور ہےاس کے سمندر میں کئی انواع کی آبی مخلوق پائی جاتی ہے۔ ان میں سے بعض کے معدوم ہونے کا خطرہ ہے جیسا کہ منقار کچھوے ہیں جومعدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔

المسدود جوالعوجا گورنری کے جنوب میں واقع ہے تبوک کے ایک انتہائی خوبصورت قدرتی مقامات میں سے ایک ہے۔ اس کی گہرائیوں اور سطح پر مینگرووز کے پھیلاؤ کے درمیان مچھلیوں ایک بڑی مقدار پائی جاتی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی "ایس پی اے" کی ایک رپورٹ کے مطابق مینگروو پودا اس جگہ پر سمندری ماحول اور آبی حیات کی نشوونما کی بنیادی اکائی ہے کیونکہ یہ مچھلیوں کو نرسری کے علاقے مہیا کرتا ہے۔

سعودی وزارت ماحولیات نے تصدیق کی کہ مینگروو پودے کے 9 اہم فوائد ہیں۔ یہ پودا جانوروں اور پرندوں کی بہت سی قسموں کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ مہیا کرتا اور ماحول دشمن گیسوں جذب کرکے فضائی آلودگی کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

نیز مچھلیوں کے ذخیرے کو محفوظ بنانے ، ساحل کو کٹاؤ اور کٹاؤ سے بچاتے ہیں ، اور ماحول میں آکسیجن کے تناسب کو بڑھاتے ہیں۔ یہ ساحلی مٹی کو بھی استحکام بخشتا ہے اور اس کو کٹاؤ سے بچاتا ہے۔ بہت سی صنعتوں ، رنگ سازی اور کاسمیٹکس کی تیاری میں اسے معاون سمجھا جاتا ہے۔ میرین پارکس بنانے کے علاوہ چارے کا ذریعہ بھی ہے اور اسے معاشی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔

یہ قابل ذکر ہے کہ مینگروز ایک سدا بہار درخت ہے جو نمکین یا میٹھے پانی سے دلدل میں نشو نما پاتا ہے۔ یہ زیادہ تر سمندر کے کناروں یا ساحل پرپھلتا پھولتا ہے۔ اس کی کاشت ناریل کے پودے کی کاشت سے ملتی جلتی ہے۔