.

اسرائیل کے ساتھ امن سجھوتا ایک جرات مندانہ اقدام ہے: بحرینی وزیر داخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاست بحرین کے وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل الشیخ راشد بن عبد اللہ آل خلیفہ نے کہا ہے کہ مملکت بحرین اور ریاست اسرائیل کے مابین سفارتی تعلقات کے قیام کا اعلان ایک خود مختار اقدام ہے جو منامہ کے جرات مندانہ موقف کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ معاہدہ بحرینی فرمانروا حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کی حکمت اور بصیرت کی عکاسی کرتا ہے اور یہ معاملہ بحرین کے اعلی مفادات کی خدمت کی ایک جھلک ہے۔ اندرونی اور بیرونی طور پر ، یہ سلامتی اور استحکام کو بڑھانے اور ترقی و خوشحالی کے پہلوؤں کو پھیلانے میں معاون ثابت ہوگا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ بحرین امن و سلامتی کا وطن ہے ، دوسرے ملکوں کے ساتھ بقائے باہمی اور رواداری کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ ساتھ پڑوسی ملکوں کے لیے امن کا گہوارہ بننا چاہتا ہے۔ بحرین عہد وفاداری، تعلق اور مستحکم حب الوطنی کے جذبے کے دائرہ کار میں ایک مستند اور ترقی پسند نقطہ نظر رکھتا ہے۔

خیال رہے کہ کل جمعہ 11 ستمبر کو بحرین نے اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے صہیونی ریاست سے دو طرفہ تعلقات استوار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کل جمعہ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ بحرین اور اسرائیل ایک امن معاہدے پر متفق ہوگئے ہیں۔

اس کے بعد بحرین کے فرمانروا حمد بن عیسٰی آل خلیفہ ، اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور امریکی صدر ٹرمپ نے بحرین اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے قیام کا باقاعدہ اعلان کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحرین اور اسرائیل کے درمیان طے پائے امن معاہدے کو'تاریخی لمحہ' قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 30 دن کے کم عرصے میں دو عرب ممالک کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ گذشتہ ماہ امریکا کی زیرنگرانی اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے امن معاہدے کا اعلان کیا تھا۔

بحرین کے فرمانروا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر بات چیت بھی کی جس کے بعد نیتن یاھو اور شاہ بحرین کے درمیان بات چیت ہوئی۔

بات کرتے ہوئے بحرینی فرمانروا نے دیر پا اور منصفانہ امن کو ایک تزویراتی آپشن کے طور پر اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں‌ نے اسرائیل سے تعلقات کے قیام کے اعلان کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قراردادوں کی روشنی میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی بھی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم عالمی قراردادوں کی روشنی میں فلسطین۔ اسرائیل تنازع کا دو ریاستی حل چاہتے ہیں۔ انہوں‌نے خطے میں امن عمل کوآگے بڑھانے کے لیے امریکا کے کردار کو سراہا اور کہا کہ اسرائیل اورعرب ملکوں کےدرمیان تعلقات کے قیام سے مشرق وسطیٰ اور عالمی سطح پرامن مساعی کوآگے بڑھانے میں مدد ملے گی اور خطے میں‌معاشی خوش حالی آئے گی۔

فون پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بحرینیی فرمانروا کو اسرائیل اور امارات کےدرمیان طے پائے دوستی معاہدے کی 15 ستمبر کو امریکا میں ہونے والےتقریب میں شرکت کی دعوت دی۔ اس تقریب میں تل ابیب اور ابو ظبی کے مندوبین باقاعدہ دستخط کریں گے۔

ٹیلیفون پر بات چیت کے بعد امریکا، بحرین اور اسرائیل کی جانب سے ایک مشترکہ سہ فریقی بیان جاری کیا گیا ہے۔ اس بیان میں بحرین اور اسرائیل کے درمیان جلد سفارتی اور دیگر تمام شعبوں میں تعلقات کےقیام پر اتفاق کیا گیا ہے۔

بیان میں بحرین اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کو مشرق وسطیٰ میں دیر پا قیام امن کے لیے تاریخی پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ اس سے خطے میں تعلقات کے فروغ، مکالمے، تنازعات کے حل، اقتصادی خوش حالی اور امن کی راہ ہموار ہوگی۔

امریکا نے 25 جون 2019ء کو بحرین کی میزبانی میں ہونے والی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے اقصادی خوش حالی کانفرنس کی میزبانی کو سراہا۔ اس کانفرنس کےانعقاد کا مقصد فلسطینی قوم کے لیے معاشی مواقع پیدا کرنا اور مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور فلسطینیوں کےدرمیان جاری دیرینہ تنازع کے حل کی طرف مرحلہ وار پیش رفت کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔