.

ایران: نوجوان ریسلر نوید افکاری کی سزائے موت پر عمل درامد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں آج ہفتے کی صبح حکام کی جانب سے 27 سالہ ریسلر نوید افکاری کی سزائے موت پر عمل ہو گیا۔

ایران نے عوامی احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے مظاہرین کے خلاف موت اور قید کی سزاؤں کے فیصلے منسوخ کرنے کے حوالے سے بین الاقوامی اور اقوام متحدہ کی اپیلیں نظر انداز کر دیں۔

ایرانی سیاسی کارکن مہدی محمودیان نے گذشتہ ہفتے ٹویٹر پر بتایا تھا کہ ریسلنگ کے ایرانی اسٹار نوید افکاری کو حراستی مرکز سے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ایرانی میڈٰیا نے بتایا تھا کہ ریسلر نوید افکاری پر "دانستہ اقدام قتل" کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی۔ اس لیے کہ اس نے 2 اگست 2018ء کو شیراز میں واٹر بورڈ اتھارٹی کے ایک ذمے دار کو چاقو کے وار کر کے موت کی نیند سلا دیا تھا۔

عدالت کے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی نظام کی قیادت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ افکاری کی سزائے موت پر عمل روک دے۔

یاد رہے کہ نوید افکاری کے معاملے نے گذشتہ دنوں کے دوران ایرانی عوام اور سیکڑوں کارکنان کو مصروف رکھا۔ اس دوران سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے پیغامات میں ایرانی حکام سے اپیل کی جاتی رہی کہ وہ نوجوان ریسلر کے خلاف جاری سزائے موت کے فیصلے پر عمل درامد نہ کرے۔ بالخصوص جب کہ بیرون ملک شائع ہونے والی اخباری معلومات میں کہا گیا تھا کہ افکاری پر فرد جرم ،،، تشدد کے ذریعے حاصل کیے جانے والے اعترافی بیان کی بنیاد پر عائد کی گئی۔

ایران میں ینگ رپورٹرز کلب نیوز ایجنسی کے مطابق افکاری کے وکیل حسن یونسی کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل کے خلاف جاری فیصلے کی توثیق ہو چکی ہے لہذا اس کے خلاف اپیل نہیں ہو سکتی۔ یونسی نے اپنی ایک ٹویٹ میں عدالتی فیصلے کی سخت مذمت کی جو شوائد کی عدم موجودگی میں جاری کیا گیا۔

واضح رہے کہ ایران نے 2019ء میں کم از کم 251 افراد کی سزائے موت پر عمل کرتے ہوئے ان کو اس دنیا سے رخصت کر دیا۔ ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق یہ چین کے بعد دنیا کے کسی بھی ملک میں سب سے زیادہ دی جانے والی موت کی سزا ہے۔