.

بحرین کے ساتھ معاہدہ 'امن کے نئے عہد' کا آغاز ہے: نیتن یاھو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اسرائیل اور بحرین کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدے کو امن کے نئے دور کا آغاز قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگست کے وسط میں امارات کے ساتھ معاہدے کے بعد بحرین کے ساتھ اسرائیل کا امن سمجھوتا تل ابیب کی تاریخی کامیابی ہے۔ انہوں‌ نے توقع ظاہر کی کہ جلد ہی دوسرے عرب ممالک بھی اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ تعلقات استوار کریں گے۔

ایک بیان میں بنجمن نیتن یاھو نے اسرائیلی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرے ہم وطنوں! میں آپ کو یہ بتاتے ہوئے خوش ہوں کہ آج شام ہم ایک اور عرب ملک بحرین کے ساتھ ایک اور امن معاہدے پر پہنچے ہیں۔ یہ معاہدہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ تاریخی امن میں مزید اضافہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ بحرین اور اسرائیل نے امن معاہدے پر دستخط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ٹرمپ نے بحرین کے فرمانروا حمد بن عیسیٰ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو سے بحرین اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرق وسطی بدل رہا ہے اور امن معاہدوں تک پہنچنا تاریخی کامیابی ہے۔ ان کا اشارہ امارات اور بحرین کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور دونوں خلیجی ملکوں کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوارکرنے کے اعلان کی طرف تھا۔امریکی صدر نے کا کہ مشرق وسطیٰ کا خطہ انتشار کا شکار تھا اور اب ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ اعتماد کو دوبارہ تعمیر کررہے ہیں۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ امن معاہدوں سے مشرق وسطی زیادہ محفوظ ، مستحکم اور خوشحال ہو گا۔ عرب دنیا کے بہت سے ممالک امن عمل میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور فلسطینی ان چیزوں کو قبول کریں گے جو ان کے لیے سب سے بہتر ہیں۔

ٹرمپ نے بحرین اور اسرائیل کے مابین امن معاہدے پر دستخط کرنے کے معاہدے کو ایک "تاریخی لمحہ" قرار دیا۔ ٹرمپ نے گذشتہ ماہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ کرایا جس کے بعد تیس دن سے بھی کم وقت میں اسرائیل اور ایک اورعرب ملک کے مابین دوسرا امن معاہدہ" ہوا ہے۔

بحرین کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شاہ حمد بن عیسیٰ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی موجودگی میں ٹیلیفون پر بات چیت ہوئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطی بدل رہا ہے اور امن معاہدوں تک پہنچنا تاریخی کامیابی ہے۔ ان کا اشارہ امارات اور بحرین کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور دونوں خلیجی ملکوں کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوارکرنے کے اعلان کی طرف تھا۔امریکی صدر نے کا کہ مشرق وسطیٰ کا خطہ انتشار کا شکار تھا اور اب ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ اعتماد کو دوبارہ تعمیر کررہے ہیں۔