.

مصر کی ثالثی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے پر بالواسطہ بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ثالثی میں غزہ کی حکمراں فلسطینی جماعت حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے پر بالواسطہ بات چیت ہورہی ہے۔

حماس کے ایک ذریعے نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ مصری انٹیلی جنس سروس کے فلسطینی امور کے نگران جنرل احمد عبدالخالق کے زیرقیادت ایک وفد حماس اور اسرائیل کے درمیان ’’شٹل مذاکرات‘‘ کررہا ہے۔ وہ فریقین کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے لیے کوشاں ہے اور یہ 2011ء کے بعد فریقین میں اس نوعیت کا پہلا سمجھوتا ہوگا۔

اس وفد نے اسرائیلی حکام سے مذاکرات کیے ہیں اور اس سے پہلے غزہ میں جمعرات اور جمعہ کو حماس کی قیادت سے بات چیت کے دو دور کیے تھے۔اس ذریعے کا کہنا ہے کہ مصری انٹیلی جنس کے وفد نے حماس اور قابض قوت (اسرائیل) کو ایک دوسرے کے پیغامات پہنچائے ہیں۔

حماس نے 2011ء میں قیدیوں کے تبادلے کے تحت رہائی پانے والے تمام فلسطینیوں کی آزادی کا مطالبہ کیا ہے۔ان میں سے بیشتر کو اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار کر لیا تھا۔

اسلامی تحریک مزاحمت کی قیادت نے اسرائیل سے بچوں ، خواتین اور بیمار افراد کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے بدلے میں صہیونی ریاست کو غزہ میں زیر حراست اسرائیلیوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں گی۔

حماس نے اس وقت دو اسرائیلی شہریوں کو حراست میں لے رکھا ہے۔ وہ 2014ء اور 2015ء میں غیر قانونی طور پر سرحدپار کرکے غزہ کی پٹی کے علاقے میں آگئے تھے۔حماس کی سکیورٹی فورسز نے انھیں گرفتار کر لیا تھا۔

ان کے علاوہ اس کے پاس دو اسرائیلی فوجیوں کی باقیات بھی ہیں۔ یہ دونوں اسرائیلی فوجی 2014ء میں حماس کے خلاف لڑائی میں ہلاک ہوگئے تھے۔

حماس کے اس ذریعے کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ ’’مصری وفد اس وقت قیدیوں کے تبادلے کے سمجھوتے کو حتمی شکل دینے کے لیے کوشاں ہے۔ہمیں امید ہے کہ اس سمجھوتے کو بہت جلد حتمی شکل دے دی جائے گی۔‘‘

حماس اور اسرائیل کے درمیان آخری مرتبہ 2011ء میں قیدیوں کا تبادلہ ہوا تھا۔تب حماس نے اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کو رہا کیا تھا ۔ وہ 2006ء سے غزہ میں حماس کی قید میں تھا۔اس کے بدلے میں اسرائیل نے اپنی جیلوں سے 1000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا تھا۔