.

ایران میں درسی کتب سے لڑکیوں کی تصاویر ہٹانے پر نیا تنازع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزارت تعلیم کی جانب سے تیسری جماعت کی ریاضی کی درسی کتاب کے سرورق کی تصویروں میں نوجوان لڑکیوں کی تصاویر ہٹانے پر حکومت کو عوامی حلقوں کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

درجنوں ایرانی ٹویٹرز اور مواصلاتی سائٹوں کے صارفین نے اس اقدام کو "داعش" کی سوچ اور افکار کی عکاسی قرار دیتے ہوئے وزیرتعلیم کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ناقدین نے درسی کتابوں کے اندر اور سرورق پرلڑکیوں کی تعبیری فوٹو ہٹانے کو صنفی امتیاز برتنے کے مترادف قرار دیا۔

خیال رہے کہ ایران میں نئے تعلیمی سال کی درسی ریاضی کی کتاب کے نئے ایڈیشن میں کتاب کا کور ڈرائنگ گذشتہ برسوں کے مقابلے میں مختلف انداز میں دیکھا گیا ہے۔

پچھلے ایڈیشن تیسری جماعت کی ریاضی کی کتاب کے سرورق پر ایک درخت کے نیچے تین لڑکے اور دو لڑکیاں ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتی دکھائی گئی ہیں جب کہ اس سال صرف تین ہی لڑکے ہیں مگر کسی لڑکی کی تصویر نہیں۔

مصور نسیم بہاری نے سرورق کی اصل کاپی تیار کی تھی نے "انسٹاگرام" پر اپنے اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں ایرانی وزارت تعلیم کی جانب سے اس اقدام پر برہمی کرنے پر اظہار برہمی کیا۔

بہاری نے کہا کہ میں نے یہ ڈرائنگ 2012 میں تیسری جماعت کی ریاضی کی کتاب کے لیے کھینچی۔ یہ میرے لئے ناقابل یقین ہے۔ وہ محض ڈرائنگ میں ہیرا پھیری اور لڑکیوں کی تصاویر کوہٹا رہے ہیں۔

بہاری کے مطابق یہ مثال تبدیل کردی گئی تھی کیونکہ بہ ظاہر ایک لڑکی لڑکے سے مصافحہ کرنے پہنچ رہی تھی۔ اس طرح کی تصاویر کو حکومت مذہبی تعلیمات کے منافی قرار دیتی ہے۔

ایک ایرانی ٹویٹر صارف نے لکھا کہ ایرانی وزارت تعلیم نے لڑکیوں کی تصویر کو تیسری جماعت کی ریاضی کی کتاب کے سرورق سے حذف کر دیا ہے! بس آپ کو یہ یاد دلانا ہے کہ مریم میرزخانی ایک خاتون ہی تھی جس نے ریاض میں اعلی ایوارڈ لیا تھا۔۔ آپ خواتین کی تصاویر کو حذف کرسکتے ہیں مگر آپ خواتین کو حصول علم میں‌آگے بڑھنے اور کامیابی سے نہیں روک سکتے۔

تنقید کی لہر کے بعد ایرانی وزارت تعلیم نے بیان جاری کیا کہ لڑکیوں کو فنکارانہ ، جمالیاتی اور نفسیاتی وجوہات کی بناء پر اس سال کی تیسری جماعت کے لیے ریاضی کی کتابوں کی ڈرائنگ سے ہٹا دیا گیا تھا۔ حکومت کی طرف سے عجیب منطق بیان کی گئی کہ درسی کتب پر لڑکیوں اور لڑکوں کی ایک ساتھ ڈارئنگ میں آنے والی تصاویر سے معاشرے میں بے راہ روی پھیل رہی ہے۔