.

بحیرہ روم میں ایک طرف امریکا اور قبرص اور دوسری طرف ترکی کی فوجی مشقیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحیرہ روم میں‌ ترکی اور اس کے پڑوسی ملکوں کے درمیان حالیہ کشیدگی کے جلو میں قبرص اور امریکا نے نئی فوجی مشقیں شروع کی ہیں۔ دوسری طرف ترک فوج کی مشقیں بھی جاری ہیں۔

قبرص نے کل ہفتے کے روز جزیرے کے شمالی ساحل پر براہ راست گولہ بارود کے ساتھ ترک فوج کی بحری مشقوں کے انعقاد کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے ان مشقوں کو غیرقانونی اور قبرص کی خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

جمعہ کے روز ترکی نے "NAFTEX" (بین الاقوامی سمندری ٹیلی ٹیکس سسٹم) کے توسط سے ایک پیغام میں اعلان کیا ہے کہ وہ ہفتہ اور پیر کے درمیانی شب شمالی قبرص کے ساحل سے براہ راست گولہ بارود کے ساتھ بحری بحری مشق کرے گا۔

قبرص کی وزارت دفاع کے مشترکہ ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر نے نفٹیکس کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ترک مشقیں "غیر قانونی" اور "جمہوریہ قبرص کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔"

ترکی نے 1974 میں قبرص کے شمالی حصے پر قبضہ کیا تھا۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب یونان نے اس جزیرئے کو اپنا حصہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ یورپی یونین کے رکن ملک قبرص اس جزیرے کے ایک تہائی علاقے کو کنٹرول کرتا ہے۔

ترکی یونان اور قبرص مشرقی بحیرہ روم میں تیل اور گیس کے وسائل کے تنازعے میں الجھے ہوئے ہیں۔ مذاکرات سے مسئلہ نہ ہونے کی وجہ سے تینوں ملک ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔