.

عراق:سرکردہ عالم دین آیت اللہ السیستانی نے قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کی حمایت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے سرکردہ شیعہ عالم دین آیت اللہ علی السیستانی نے اقوام متحدہ کی ایلچی سے ملاقات کے بعد ملک میں قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کرانے کی حمایت کردی ہے۔

انھوں نے اتوار کو اس ملاقات کے بعد آن لائن جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ’’آیندہ سال عراق میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا ہے کہ ’’عراقیوں کی ان انتخابات میں کثیر تعداد میں شرکت کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔‘‘ انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت انتخابات نہیں کرائے جاتے یا وہ آزادانہ اور شفاف انداز میں منعقد نہیں ہوتے تو اس سے عراقی عوام کا مستقبل اور اتحاد داؤ پر لگ جائے گا۔

واضح رہے کہ نوّے سالہ علی السیستانی ایک طویل عرصے سے عوام میں نمودار نہیں ہوئے ہیں اور بالعموم جمعہ کو ان کا خطبہ ان کا کوئی نمایندہ پڑھ کر سناتا ہے لیکن اس سال کرونا وائرس کی وَبا کی وجہ سے یہ سلسلہ بھی موقوف ہوچکا ہے۔وہ سیاسی شخصیات سے ملاقاتوں سے گریز کرتے ہیں۔ البتہ وہ اقوام متحدہ کے نمایندوں سے ملاقات کرتے رہتے ہیں۔

آیت اللہ علی السیستانی سے نجف میں ان کی قیام گاہ پر عراق میں اقوام متحدہ کی نمایندہ جینین ہینس پلاسشائرٹ نے ملاقات کی ہے۔عالمی ایلچی نے عراق میں قبل از وقت انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر یہ درست طریقے سے درست انداز میں اور قابل اعتماد طریقے سے ہوتے ہیں تو اس سے ملک میں ایک اہم باب کا آغاز ہوسکتا ہے۔‘‘

قبل ازیں عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی نے جولائی کے آخر میں یہ اعلان کیا تھا کہ ملک میں پارلیمانی انتخابات مقررہ مدت سے قریباً ایک سال قبل منعقد کرائے جاسکتے ہیں۔

آیت اللہ علی السیستانی نے خود گذشتہ سال بغداد اور ملک کے جنوبی شہروں میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے بعد قبل از وقت انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔وہ عراق کی موجودہ پارلیمان کو ماضی میں تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

329 ارکان پر مشتمل یہ پارلیمان مئی 2018ء میں منتخب ہوئی تھی۔اس نے کچھ عرصہ قبل آیندہ سال ہونے والے انتخابات کے لیے اصلاحات کی منظوری دی تھی لیکن ابھی اس نے انتخابی حلقوں کے سائز سمیت بعض اہم امور کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔