مدینہ منورہ میں دور نبوتﷺ کی ایک یادگار مسجد آج بھی موجود ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مدینہ منورہ میں جہاں ایک طرف مسجد نبویﷺ جیسی اسلام کی ایک عظیم الشان یادگار اور مقدس مقامام موجود ہے وہیں اس شہر میں ایک اور تاریخی مسجد دور نبوتﷺ سے آج تک اپنی شان وشوکت کے ساتھ قائم ودائم ہے۔ تاریخی طور پر اس مسجد کو'مسجد درع' کہا جاتا ہے۔

مسجد درع کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے لیے نکلے تو کچھ دیر کےلیے اس مسجد میں قیام فرمایا تھا۔

اسے مسجد شیخین ، مسجد البداع اور مسجد العدوہ کے ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے تاہم سب سے زیادہ مشہور الدرع نام ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اس مسجد میں حضورﷺ نے جنگ پر جاتے زرہ زیب تن کی تھی۔ آپ نے صحابہ کرام کے ساتھ عصر، مغرب اور عشا اور اگلی فجر کی نماز ادا کی اور اس کے بعد جبل احد کی طرف روانہ ہو گئے تھے۔

سعودی پریس ایجنسی 'ایس پی اے' نے مسجد الدرع کے حوالے سے ایک رپورٹ میں روشنی ڈالی اور بتایا ہے کہ یہ مسجد مدینہ منورہ اور جبل احد کے درمیان مشرقی راستے پر واقع ہے۔ اس کے کچھ فاصلے پر مسجد بنی حارثہ، مسجد المستراح اور مسجد بنی حارثہ بھی قائم ہے۔ اس مسجد میں غزہ احد سے واپسی پر رسول اللہ نے کچھ دیر قیام فرمایا۔

صدیاں بیت جانے کے بعد آج بھی یہ مساجد اپنی تاریخی شان و شوکت کے ساتھ قائم ودائم ہیں۔ سعودی عرب میں آل سعود کی حکومت کے قیام کے بعداور اس سے قبل ان مساجد کو تعمیرومرمت کے مختلف مراحل سے گذارا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں