جنوبی افریقا میں امریکی خاتون سفیر کے قتل کے ایرانی منصوبے کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

انٹیلی جنس رپورٹوں کے مطابق ایران جنوبی افریقا میں امریکی خاتون سفیر لانا مارکس کے قتل کے منصوبے پر غور کر رہا ہے۔ یہ بات امریکی اخبار پولیٹیکو نے ٹرمپ انتظامیہ کے ایک ذمے دار ے حوالے سے بتائی جو مذکورہ انٹیلی جنس معلومات کی جان کاری رکھتے ہیں۔ لانا مارکس کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قریبی شخصیات میں سمجھا جاتا ہے۔

اخبار کے مطابق تہران کی جانب سے امریکی خاتون سفیر کو ہلاک کرنے کی منصوبہ بندی ایرانی القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کے جواب میں کی جا رہی ہے۔ سلیمانی رواں سال جنوری میں بغداد ہوائی اڈے کے باہر امریکی فضائی حملے میں مارا گیا تھا۔

امریکی ذمے داران نے انکشاف کیا ہے کہ ایران ،،، جنوبی افریقا میں وسیع پیمانے پر خفیہ نیٹ ورکس چلا رہا ہے۔

ذمے داران کے مطابق امریکا کو گذشتہ موسم بہار سے اس بات کا علم ہے کہ اس کی سفیر کو ایک بڑے خطرے کا سامنا ہے۔ تاہم حالیہ ہفتوں میں اس حوالے سے انٹیلی جنس معلومات نے مصدقہ صورت اختیار کر لی ہے۔ خود لانا مارکس کو بھی اپنی زندگی کے حوالے سے اس خطرے کا علم ہے۔

واضح رہے کہ 68 سالہ لانا مارکس اکتوبر 2019ء سے جنوبی افریقا میں امریکی سفیر کی ذمے داری انجام دے رہی ہیں۔ صدر ٹرمپ کے حامیوں کے نزدیک لانا مارکس ایک کامیاب کاروباری خاتون ہیں۔ ان کے نام والے ہینڈ بیگز کی قیمت 40 ہزار ڈالر تک پہنچی ہوئی ہے۔

لانا آنجہانی برطانوی شہزادی ڈیانا کی ذاتی دوستوں میں شامل رہی ہیں۔

امریکی انٹیلی جنس کو لانا مارکس کو براہ راست نشانہ بنانے کی اصل وجہ تو معلوم نہیں ہو سکی مگر پولیٹیکو اخبار کے لیے معلومات کا انکشاف کرنے والے ذمے دار کے مطابق ٹرمپ کے ساتھ لانا کی طویل دوستی امریکی صدر سے انتقام کا سبب ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ نے ہی اہم ترین ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنانے کے احکامات جاری کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں