.

زبانی خرچ نہیں زمینی حقائق کو دیکھتے ہیں : مصری وزیر خارجہ کا ترکی کو جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری وزیر خارجہ سامح شکری کا کہنا ہے کہ "ہم اقوال نہیں بلکہ افعال پر نظر رکھتے ہیں اور ان کا جائزہ لیتے ہیں"۔ شکری نے یہ بات ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کے مشیر یاسین اقطائی کے بیان کے جواب میں کہی۔ اقطائی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ لیبیا کے معاملے کے حوالے سے قاہرہ اور انقرہ ایک دوسرے کے قریب ہیں۔

اتوار کی شب ٹی وی پر دیے گئے ایک بیان میں مصری وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ "ہم افعال پر نظر رکھتے ہیں ،،، اگر باتیں اور بیانات زمینی پالیسیوں کے ساتھ میل نہیں کھاتے تو پھر ان کی کوئی اہمیت نہیں رہتی"۔

خطے میں ترکی کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے سامح شکری نے کہا کہ "شام، عراق اور لیبیا کی سرزمین پر موجودگی سے ہم (ترکی کی) جو پالیسیاں دیکھ رہے ہیں اور ان کے علاوہ مشرق وسطی میں قائم تناؤ ... یہ تمام امور خطے میں عدم استحکام کی پالیسیوں کی خبر دے رہے ہیں"۔

یاد رہے کہ ایردوآن کے مشیر یاسین اقطائی نے اتوار کے روز ایک اخباری بیان میں کہا تھا کہ "لیبیا کے معاملے کے حوالے سے فریقین رابطے میں اور ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ لہذا دونوں ملکوں کی حکومتوں اور عوام کو قریب آنا چاہیے"۔

واضح رہے کہ کئی معاملات ہیں جن کے سبب انقرہ اور قاہرہ کے درمیان اختلاف نے جنم لیا ہے۔ ان میں سرفہرست الاخوان المسلمین کے لیے ترکی کی سپورٹ اور مصر سے فرار ہونے والی تنظیم کی قیادت کے خیر مقدم کے لیے انقرہ کی جانب سے بازو پھیلانا ہے۔ ان کے علاوہ دیگر امور میں لیبیا ، شام اور مشرقی بحیرہ روم جیسے معاملات شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں