.

سعودی عرب: صحرا ربع الخالی میں ریت کے ٹیلوں کے دلفریب مناظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ایک مقامی پیشہ ور فوٹو گرافر نے صحرا ربع الخالی میں ریت کے ٹیلوں کے دلفریب مناظر کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں‌ محفوظ کیا ہے۔

سعودی فوٹو گرافر کی حاصل کردہ تصاویر نہ صرف صحرا ربع الخالی کے جمالیاتی حسن کی ایک جھلک ہے بلکہ اس کی عالمی اور علاقائی جغرافیائی اہمیت کا بھی بہ خوبی اندازہ ہوتا ہے۔

فوٹو گرافر سیاف دشن الشھرانی نے بیشہ فوٹو گرافی کلب کی بنیاد رکھنے کے بعد اس فن کو پیشہ ورانہ انداز میں آگے بڑھایا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ سے بات کرتے ہوئے الشھرانی نے کہا کہ پچھلے تین سال سے میں صحرائے ربع الخالی کی سیر کو جاتا رہا ہوں۔ اس سفرمیں مَیں اکیلا نہیں بلکہ میرے ساتھ میرے دوست اور قدرتی مقامات کی سیر کے شوقین افراد بھی ہوتے۔ ہمارے ساتھ ریتلے علاقوں میں سفر کرنے اور وہاں پرقیام کے ماہرین بھی ساتھ جاتے۔ سفر کے دوران ہم جدید آلات کا بھی استعمال کرتے۔ جن میں وائرلیس اور دیگر مواصلاتی آلات شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ صحرائے ربع الخالی میں داخل ہونا کسی بڑی مہم جوئی سے کم نہیں مگر ہمارا شوق سیاحت ہمیں صحرا کے حسن تک کھنچے لے جاتا اور ہم چٹانوں کو عبور کرتے ہوئے صحرا میں جا پہنچتے۔

الشھرانی نے کہا کہ صحرا ربع الخالی کا شمار دنیا کے بڑے صحراوں میں ہوتا ہے۔ یہ صحرا 6 لاکھ مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے اور اس کی لمبائی تقریبا ایک ہزار کلو میٹر اور چوڑائی 500 کلو میٹر ہے۔

صحرا ریت کے ٹیلوں سے بھری ایک کھلی زمین ہے۔ بعض ٹیلے عارضی اور بعض مستقل ہیں۔ یہ ٹیلےبھی مختلف شکلوں میں ہیں۔ کچھ ٹیلے 1500 فت بلند ہیں۔ بعض کا مشرقی حصہ 500 فٹ اور جنوب مغربی حصہ 2000 فٹ تک ہوتا ہے جب کہ شمال میں واقع ٹیلے 1500 فٹ اونچے ہوتے ہیں۔

ربع الخالی صحرا کا موسم گرمیوں میں شدید گرم اور سردیوں میں سرد ہوتا ہے۔ یہاں پر بارش شاذ و نادر ہی ہوتی ہے۔ سال بھر یہاں ریتلے طوفان اٹھتے رہتے ہیں۔ گرمیوں میں درجہ حرارت 40 سے 50 درجے سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے۔ بسا اوقات درجہ حرارت 60 درجے تک بھی پہنچ جاتا ہے۔ موسم سرما میں درجہ حرارت منفی سات درجے سینٹی گریڈ تک بھی چلا جاتا ہے۔

ربع الخالی میں ایک طرف زہریلے سانپ بہ کثرت پائے جاتے ہیں تو وہاں خرگوش اور مختلف اقسام کے پرندے بھی یہاں بسیرا کرتے ہیں۔ یہاں پر سرکاری سطح پرپرندوں کے شکار پر پابندی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں