.

قطر پر حزب اللہ کو 50 کروڑ ڈالر فنڈز فراہم کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریا کے تحقیقی مرکز مینا واچ کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ قطر نے افریقہ کے راستے سونے کی ترسیل کے استعمال سے یورپ سے حزب اللہ تک اسلحہ کی ترسیل کے نیٹ ورک کو بڑی مقدار میں مالی مدد فراہم کی ہے۔

آسٹریا میں قائم تھنک ٹینک نے اطلاع دی ہے کہ قطر کے اعلی عہدے داروں نے ادائیگیوں کے لیے باہمی رابطوں سے حزب اللہ کے مالی اعانت کاروں کو تحفظ فراہم کیا۔

مرکز کی معلومات "جیسن" کے نام سے مشہور ایجنٹ کی مرتب کردہ فائل پر مبنی ہیں جو ملک میں خفیہ طور پر کام کرتا تھا۔

سونا اور ہتھیار

معلومات کے مطابق قطر نے ان کارروائیوں کو منظم کرنے کے لیے بین الاقوامی ایتھلیٹکس فیڈریشن کے نائب صدر دحلان الحمد سمیت سرکردہ عہدیداروں کو فنڈز کی فراہمی کے لیے استعمال کیا۔

فائل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ میجر جنرل دحلان نے اسلحہ کی تجارت اور مالی مدد کے لیے یوگنڈا سے سونے کا استعمال کیا۔

اس کے علاوہ انہوں نے اس بات کا اشارہ کیا کہ سونے کے لیے ہتھیاروں کا عمل ایک وسیع اسکیم تھا جو 2017 میں سربیا سے اسلحہ خریدنے کے لیے شروع ہوئی تھی۔ یہ رقم اور اسلحہ مقدونیا کے راستے پہنچایا جاتا رہا۔ پکڑے جانے کے خدشے کے تحت ہتھیاروں کو مقامی سطح پر تیار کردہ فولادی سامان ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلقان کے ایجنٹوں نے قطری عہدیداروں کے ساتھ مل کر کام کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اسلحہ پہلے یونان کی بندرگاہ تھیسالونیکی اور پھر بیروت منتقل کیا گیا جہاں حزب اللہ ملیشیا بندرگاہ پر کنٹرول رکھتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں