.

بیروت کے وسط میں واقع تاریخی عمارت میں آگ لگ گئی !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے دارالحکومت بیروت کے وسط میں واقع کاروباری علاقے میں ایک تاریخی عمارت کو منگل کے روز آگ لگ گئی ہے۔اس عمارت کا ڈیزائن برطانوی عراقی آرکیٹیکٹ ضحیٰ حدید نے تیار کیا تھا۔

لبنان کے محکمہ شہری دفاع کے مطابق آگ پر جلد قابو پا لیا گیا ہے۔ العربیہ کے ذرائع کے مطابق عمارت کئی برس تک زیرتعمیر رہی تھی اور یہ پایہ تکمیل کے قریب تھی۔

لبنان کے سوشل میڈیا کے صارفین نے اس عمارت کو آگ لگنے کے واقعے کی تصاویر آن لائن پوسٹ کی ہیں۔بیروت میں آتش زدگی کا یہ چوتھا واقعہ ہے۔

اس شہر کے مکین ابھی تک چار اگست کو بیروت کی بندرگاہ پر تباہ کن دھماکے کے صدمے سے ابھی نہیں نکلے ہیں۔آتش زدگی کے اس نئے واقعہ سے دو روز قبل ہی بندرگاہ سے ہفتہ کی شب سفید دھواں بلند ہوا تھا۔ لبنانی حکام نے بتایا تھا کہ دھماکے اور آتش زدگی میں تباہ شدہ ملبے سے بلند ہوا تھا۔

بیروت کی بندرگاہ پر جمعرات کو بھی خوف ناک آگ لگ گئی تھی اور لبنانی فائر فائٹروں اور فوج کے ہیلی کاپٹروں نے طویل جدوجہد کے بعد اس آگ پر قابو پایا تھا۔ ایک گودام میں آگ لگنے کے بعد سیاہ دھویں کے بادل آسمان کی جانب بلند ہورہے تھے۔

واضح رہے کہ بیروت میں چار اگست کو تباہ کن دھماکے سے بندرگاہ کو شدید نقصان پہنچا تھا اور وہ استعمال کے قابل نہیں رہی ہے۔اس دھماکے کے نتیجے میں 190 افراد ہلاک اور چھے ہزار سے زیادہ خمی ہوگئے تھے۔اس دھماکے میں ہزاروں عمارتیں تباہ ہوگئی تھیں اور کم سے کم تین لاکھ افراد بے گھر ہوگئے تھے۔