.

امارات اور اسرائیل کے درمیان سیاحت اور تجارت کے لیے کون سی منڈیاں اہم ہو سکتی ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے امن معاہدے کے اعلان کے بعد ایسے لگتا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں اسرائیلی شہری امارات کے کاروباری اور سیاحتی وزٹ کے لیے بے تاب ہیں۔ اس سلسلے میں امارات میں بھی غیرمعمولی انتظامات اور تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

اس معاہدے نے دونوں ممالک کے مابین ایک نیا اتحاد قائم کیا ہے۔ تجارت ، سرمایہ کاری اور سیاحت کو وسعت دینے کی بنیاد رکھی ہے۔

فنانشل ٹائمز میں شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظبی میں رواں ہفتے ہوٹلوں کو کھانوں اور قیام گاہوں کے لیے خصوصی لائنسز جاری کئے گئے۔ اس سے دونوں ممالک کے مابین ممکنہ تجارت اور سیاحت کی منڈیوں پر روشنی ڈالی ہے۔

امارات اپنے ہاں یہودی سیاحوں کے استقبال کی تیاری کے ساتھ اس امید میں ہے کہ اسرائیل میں بھی اماراتیوں کا ایسا ہی پرجوش اور والہانہ استقبال کیا جائے گا۔

اس تناظر میں دبئی میں ایک کاروباری مالک نے کہا کہ ہم کسی کے بھی مذہب سے بالاتر ہو ان کے ساتھ معاملات کرنا چاہتے ہیں۔
دبئی میں یہودی کمیونٹی سنٹر کے سربراہ سولی ولف نے زور دے کر کہا کہ ٹیکنالوجی ، صحت کی دیکھ بھال ، زراعت اور ہوا بازی سمیت مختلف شعبوں میں بہت جلد ادائیگی ہو جائے گی۔

ولف جو دو دہائی قبل متحدہ عرب امارات منتقل ہوئے تھے نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی اور اماراتی نئے کاروباروں کی سہولت کے لیے اس سے پہلے ہی رابطہ کرچکے ہیں۔

باہمی معاشی

اگرچہ متحدہ عرب امارات کے لیے سیکیورٹی سے لے کر زرعی ٹیکنالوجی تک اسرائیلی ٹیکنالوجی کی بہت زیادہ اہمیت ہے لیکن بہت سے لوگ معاہدے کو کرونا وائرس سے متاثرہ سیاحت کے شعبے کو فروغ دینے کے مواقع کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔

وبائی مرض کا شکار ہونے والے ہوٹل کے مالکان براہ راست پروازیں کھلنے کے بعد خلیج تجارت اور ٹریول سنٹر میں یہودی اور اسرائیلی زائرین کی لہر کی توقع کر رہے ہیں۔

امارات میں جنوبی افریقہ کے ایک وکیل اور یہودی کونسل کے سربراہ راس کریل نے بتایا کہ اس کے مطابق ٹور آپریٹرز نے متحدہ عرب امارات کے دوروں کا اہتمام پہلے ہی کر لیا ہے۔ انہوں‌ نے توقع ظاہر کی کہ اسرائیل سے آنے والے سالانہ زائرین کی تعداد ڈیڑھ سو سے تین لاکھ کے درمیان ہو گی۔

ان زائرین کے استقبال کے لیے ہوٹلوں میں سرکاری امارات پیلس ہوٹل اور دبئی کا ارمانی ہوٹل شامل ہیں جو دنیا کے سب سے اونچے مینار برج خلیفہ کے مرکز پر واقع ہیں۔

ارتھوڈوکس یونین دنیا کی سب سے بڑی کوشر سرٹیفیکیشن ایجنسی چلانے والے ربی میناشیم جنک نے زور دے کر کہا کہ وہاں بہت جوش و خروش ہے۔ میں صرف اس شخص سے بات کر رہا تھا جو مارچ 2021 کے آخر میں ایسٹر کے لیے دبئی میں کئی ہوٹلوں کو کرایہ پر لینے کے خواہاں ہے۔