.

امریکا کی حزب اللہ سے وابستہ دو کمپنیوں اور ایک شخصیت پر نئی پابندیاں عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ سے وابستہ دو کمپنیوں اور ایک شخصیت پر نئی پابندیاں عاید کردی ہیں جبکہ سیاسی بحران کا شکار ملک میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا اور اس کے اتحادی نئی حکومت کی تشکیل میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں اور وہ آیندہ بھی وزارتِ خزانہ اپنے پاس رکھنے پر مُصر ہیں۔

امریکا نے جمعرات کے روز بیروت کے جنوب میں واقع حزب اللہ کے مضبوط گڑھ سے تعلق رکھنے والی آرچ کنسلٹنگ کمپنی اور ایکاور کمپنی معمار سارل پر شیعہ ملیشیا سے تعلق کے الزام میں نئی پابندیاں عاید کی ہیں اور انھیں بلیک لسٹ کردیا ہے۔

امریکا نے حزب اللہ کی انتظامی کونسل کے سینیر عہدہ دار سلطان اسعد کو بھی بلیک لسٹ کردیا ہے۔ وہ مبیّنہ طور پر انتظامی کونسل کے چیئرمین ہاشم صفی الدین کے نائب ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ ’’2019ء کے اوائل تک اسعد انتظامی کونسل کے ماتحت درجنوں کمپنیوں کے ذمے دار تھے۔ ان میں آرچ اور معمار بھی شامل ہیں۔وہ ان کے منصوبوں میں مشاورت کا کام کرتے رہے تھے اور ان کے مالی اور قانونی امور کے ذمے دار تھے۔‘‘

امریکا نے اس اقدام سے چند روز قبل حزب اللہ کے اتحادی دو سینیر سیاست دان ،سابق وزراء پر پابندیاں عاید کردی تھیں۔ان پر شیعہ ملیشیا کی حمایت کے علاوہ لبنان میں بدعنوانیوں میں ملوّث ہونے کے الزامات عاید کیے گئے تھے۔

لبنان کے سابق وزیر خزانہ علی حسن خلیل اور پبلک ورکس کے وزیر یوسف فینانوس پرامریکی محکمہ خزانہ نے پابندیاں عاید کی تھی۔امریکا نے حزب اللہ کے حلقوں سے باہر پہلی مرتبہ لبنان کے کسی سرکردہ سیاست دان پر اس طرح کی پابندیاں کی عاید کی تھیں۔

امریکا کے اس اقدام پر لبنانی پارلیمان کے اسپیکر نبیہ برّی نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور انھوں نے اپنی جماعت امل تحریک اور حزب اللہ کے سوا کسی اور جماعت سے تعلق رکھنے والے شخص کو وزیر خزانہ نامزد کرنے کی مخالفت کردی تھی۔

علی حسن خلیل نبیہ بری کے قریبی سیاسی معاونین میں سے ایک ہیں۔ وہ لبنان کے نامزد وزیراعظم مصطفیٰ ادیب کے زیر قیادت نئی حکومت کی تشکیل کے عمل میں بھی فعال ہیں۔نامزد وزیراعظم اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ آزاد وزراء پر مشتمل نئی کابینہ تشکیل دیں گے اور کسی سیاسی جماعت کو وزراء نامزد کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

دریں اثناء امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ حزب اللہ نے دوسری جماعتوں کی طرح لبنان کے بدعنوان نظام سے فائدہ اٹھایا ہے۔لبنانی عوام بہتری کے حق دار ہیں۔امریکا لبنان میں کرپشن کے خاتمے اور زیادہ جواب دہ حکومت کی تشکیل کے لیے ان کے مطالبات کی حمایت کرے گا۔