.

اسرائیل کا حزب اللہ اور ایران کے لیے جاسوس نیٹ ورک پکڑنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مقبوضہ بیت المقدس سے فلسطینیوں کے ایک نیٹ ورک کو پکڑا ہے جو مبینہ طور پر ایران اور حزب اللہ کے لیے جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

اسرائیلی حکومت نے حزب اللہ اور ایران کو خبردار کیا ہے کہ تل ابیب ان کی جاسوسی کے منصوبوں کو ناکام بنائے گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ترجمان آفیر گینڈل مین نے بتایا کہ حزب اللہ ایجنٹوں کی بھرتی کے لیے ترکی سمیت مختلف ممالک میں اپنے گروپ تیار کر رہی ہے۔ ٹیلیگرام پر جاری بیانات کے ایک سلسلہ میں ، انہوں نے کہا کہ شن بیٹ (انٹیلیجنس) اسرائیلی سکیورٹی ادارے نے دوسرے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر ایران اور حزب اللہ کے لیے بھرتی کرنے اور جاسوسی نیٹ ورک تیار کرنے کی ایک سازش ناکام بنائی ہے۔ اس حوالے سے القدس اور غرب اردن میں متعدد فلسطینیوں‌ کو گرفتار کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حال ہی میں ایرانی قدس فورس اور حزب اللہ کی سرگرمیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ سیکیورٹی اداروں کو معلوم ہوا کہ حزب اللہ اور ایران اسرائیل اور فلسطینی شہریوں کو اسرائیل کے اندر آپریشن اور حملے کرنے کے لیے بھرتی کرتے ہیں۔

انکشاف کے بعد سیکیورٹی اداروں نے القدس سے تعلق رکھنے والی یاسمین جابر نامی ایک لڑکی جو اسرائیل کی نیشنل لائبریری میں کام کرتی ہے کو گذشتہ اگست میں تفتیش کے لیے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا۔ حکام کو شبہ تھا کہ یاسمین ایران اورحزب اللہ کے لیے افراد بھرتی کرنے اور جاسوسی کرنے میں‌ ملوث ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ تحقیقات کے دوران یہ بات واضح ہوگئی کہ حزب اللہ لبنان میں کانفرنسز کا انعقاد کر رہی ہے۔ اس کا مقصد اسرائیل اور مغربی کنارے کے اندر سے بھرتی کے لیے امیدواروں کی اسکریننگ کرنا ہے تاکہ وہ اسرائیل کے اندر "دہشت گردی کی کارروائیوں" کو انجام دے سکیں۔