.

شمالی عراق میں کرد عسکریت پسندوں کا حملہ، ترکی کے 2 فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے جمعے کے روز ایک اعلان میں بتایا ہے کہ عراق کے ساتھ سرحد پر اس کے دو فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔ واضح رہے کہ عراق کی جانب سے سرکاری سطح پر مذمت کے باوجود ترکی کا شمالی عراق میں فوجی آپریشن جاری ہے۔

ترکی کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ کردستان ورکرز پارٹی کے عناصر نے جمعرات کے روز اس سرحدی علاقے میں راکٹ گرینیڈز سے حملہ کیا جہاں "Claw-Tiger" آپریشن جاری ہے۔ حملے میں ترکی کے دو فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔

اس سے قبل کرد ذرائع نے جمعرات کی شب بتایا تھا کہ ترکی کی فضائیہ کے طیاروں نے ایک بار پھر عراقی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرحد کے نزدیک ایک کرد اکثریتی گاؤں کو بم باری کا نشانہ بنایا۔

واضح رہے کہ ترکی کی جانب سے عراق کی خود مختاری کی دھجیاں اڑانے کا سلسلہ جاری ہے۔

یاد رہے کہ ایک ہفتہ قبل ترکی کے توپ خانوں کی جانب سے داغے گئے 4 گولے عراقی کردستان کے صوبے دھوک میں اورمان گاؤں پر گرے تھے۔ ان میں دو گولے ایسے جگہ گرے جہاں سے 70 میٹر کے فاصلے پر کئی گھر موجود تھے۔

یہ گولہ باری ایسے وقت میں ہوئی جب عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کردستان ریجن کا دورہ کر رہے تھے۔

ترکی کی افواج تقریبا تین ماہ سے عراق میں باقاعدگی کے ساتھ کردستان ورکرز پارٹی کے خلاف حملے کر رہی ہیں۔ عراقی اراضی میں ترکی کی حالیہ عسکری مداخلت پر بغداد حکومت کی جانب سے مذمت سامنے آئی تھی۔ ترکی کے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے عراقی حکومت کئی بار ترک سفیر کو طلب کر کے سخت لفظوں میں احتجاج ریکارڈ کرا چکی ہے۔

رواں سال 16 جون کو ترکی نے شمالی عراق کے علاقے حفتانین میں کردستانی عناصر کے خلاف "Claw-Tiger" فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔ اس سے ایک روز قبل ترکی کی فوج زمینی طور پر شمالی عراق میں داخل ہو گئی تھی۔