.

سعودی ویمن فٹ بال ٹیم کی کوچ چیمپئن شپ جیتنے کے لیے پرعزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پوری دنیا میں اب فٹ بال صرف مرد کھلاڑیوں تک محدود نہیں بلکہ اس میدان میں خواتین بھی مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی کامیابیوں اور فتوحات کے جھنڈے گاڑ رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کی فٹبال کے کھیل کے میدان میں سعودی عرب کی مرد ٹیم کے ساتھ ویمن ٹیم بھی تیار ہو رہی ہے۔ سعودی فٹ بال ٹیم کی کوچ اور کپتان مرام البتیری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ سعودی خواتین کی ٹیم کی چیمپئن شپ جیتنے کے لیے پرعزم ہیں۔

مرام نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو کوچنگ میں شروعات کی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بچوں کے فٹبال کے لیے کوچ کی حیثیت سے سنہ 2016 میں کام کرنا شروع کیا تھا۔ میں نے اس تجربے سے گذرتے ہوئے بچوں کے ساتھ اپنی تربیت کی مہارت کو بہتر بنانے کی کوشش کی یہاں تک کہ مجھے بین الاقوامی سطح کا کوچنگ کا لائسنس مل گیا۔ 'شعلہ الشرقیہ' کلب میں لڑکیوں کی کوچنگ شروع کی۔ یہ کلب 2006 قائم کیا گیا تھا۔ ابھی تک میں اسی کلب کے ساتھ ہوں اور باقاعدگی کے ساتھ کوچنگ کی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہوں۔

فٹ بال کی ٹریننگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کپتان البتیری نے کہا کہ میں ایک ایسے خاندان میں پروان چڑھی ہوں جو فٹ بال سے محبت کرہے۔ میرے خاندان نے فٹ بال کھیلنے اور اس کی کوچنگ پر کبھی اعتراض نہیں کیا۔ فٹ بال کا شوق اس حد تک بڑھا کہ میں نے فیصلہ کیا کہ میں خود کو اس کام کے لیے وقف کردوں۔

انہوں نے کھیلوں کے کاموں میں اپنی کوششوں کے بارے میں بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ 'شعلہ شرقیہ کلب' کو ترقی دینے اور اس کے اندرونی ادارہ جاتی کام کو مستحکم کرنے کے لیے ذاتی کوششوں سے ہٹ کر پیشہ ورانہ کھیلوں کے ماحول کی بہتری کے لیے بھی اقدامات کیے۔

انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل وہ متحدہ عرب امارات ، فرانس ، بحرین اور دیگر ممالک میں متعدد بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں حصہ لے چکی ہیں اور یہ کہ وہ سعودی عرب میں ویمن لیگ چیمپینشپ کا پہلا مقابلہ جیتنے کے لیے اپنی ٹیم کے ساتھ کوشاں ہیں اور یہ ان کی پہلی خواہش ہے۔

انہوں نے خواتین کے لیے کھیلوں کے ماحول کے بارے کرتے ہوئے کہا کہ وہ نئے تجربے میں معاشرے سے لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کرکے اور انہیں یہ تجربہ حاصل کرنے کے قابل بنائیں ، ان میں اعتماد کو فروغ دیں۔ تاکہ سعودی عرب کی ویمن فٹبال ٹیم بھی ملک کا نام روشن کرنے کے لیے میدان میں اتر سکے۔