.

پابندیوں کی عملا بحالی پر ایران کی امریکا کو فیصلہ کن ردعمل کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ اگر امریکا ایران پر عملی طور پر پابندیاں بحال کرنا چاہتا ہے تو ایران کا ردعمل فیصلہ کن ہگا۔

روحانی نے یہ ریمارکس اتوار کے روز ایرانی کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں کیے۔ انہوں نے یہ بات امریکا کی طرف سے ایران کے خلاف 'ٹرگر میکانزم' کے نفاذ کے جواب میں کہی۔

تاہم روحانی نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایران کے پاس امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کےلیے کیا ممکنہ اقدامات ہوسکتے ہیں۔
روحانی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا شکریہ ادا کیا اور اقوام متحدہ کی پابندیاں واپس کرنے کے امریکا کے فیصلے کو مسترد کرنے پر یورپی ممالک کے موقف کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے جوہری معاہدے میں باقی پانچ ممالک کے گروپ کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر انھوں نے جوہری معاہدے کی تمام شقوں کی پاسداری کی تو ہم بھی معاہدے میں شامل تمام ذمہ داریوں کو پورا کریں گے۔

دریں اثنا امریکا نے اعلان کیا ہے کہ ٹرگر میکانزم یا "اسنیپ بیک" کے نفاذ کے ساتھ ایران کے خلاف پابندیاں اتوار کو نافذ ہوگئی ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے کہا کہ تہران کا واشنگٹن کو دیا گیا پیغام واضح ہے۔ ہم امریکا پر واضح‌ کر دیا ہے کہ وہ عالمی برادری میں واپس آئے، اپنی ذمہ داریوں کو عملی جامہ پہنائے اور تکبر ترک کرے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے دھمکی دی ہے کہ جو بھی ایران پر پابندیوں کی خلاف ورزی کرے گا۔ اس کے خلاف اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ امریکی اقدام اقوام متحدہ میں ایک خاص تصادم کی علامت ہے کیونکہ یورپی ممالک اور سلامتی کونسل کے ارکان ایران پر امریکا کی نئی پابندیوں کو مسترد کر چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں