.

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان کی ایرانی وزیر خارجہ پر تنقید اور سوالات کی بوچھار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسے وقت میں جب کہ ایرانی وزیر خارجہ گذشتہ روز خارجہ تعلقات کونسل (امریکی ریسرچ سینٹر) کے زیر انتظام ایک وڈیو کانفرنس میں اپنے ملک میں عدلیہ کی آزادی کا پرچار کرتے ہوئے نوجوان ریسلر نوید افکاری کو پھانسی دیے جانے کا جواز پیش کر رہے تھے ،،، دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ کی خاتون تجرمان مورگن اورٹاگوس نے نے ایرانی وزیر پر سوالات اور تنقید کی بوچھار کر دی۔

ٹویٹر پر اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں مورگن نے جواد ظریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "آپ کی حکومت کی جانب سے پھانسی دیے جانے سے قبل نوید افکاری کو مستقل صورت میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے اعترافی بیانات ایرانی ٹی وی پر نشر کیے گئے ... کیا آپ ہر سیاسی قیدی کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں یا صرف اس وقت ایسا کرتے ہیں جب ان کے بیانات ٹی وی پر نشر کرنا چاہتے ہیں ؟

اسی طرح ترجمان نے یہ بھی پوچھا کہ "ایران نے گذشتہ برس کتنے بچوں کو موت کے گھاٹ اتارا؟ دنیا بھر میں بچوں کو سزائے موت دیے جانے کی سب سے بڑی شرح ایران میں کیوں ہے ؟ کیا یہ درست ہے کہ آپ کی حکومت نے گذشتہ برس نومبر میں 23 بچوں کو موت کی نیند سلایا؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ان کے ساتھ کیا ہوا ؟

خطے میں مسلح ملیشیاؤں کے لیے ایران کی مستقل سپورٹ کے حوالے سے مورگن نے استفسار کیا کہ "ایران نے حزب اللہ اور حماس کو کتنے میزائل منتقل کیے ہیں؟ ایران ہر سال دہشت گرد جماعتوں کو کتنی رقم دیتا ہے ؟ یہ سارا پیسہ کہاں سے آتا ہے ؟

ایرانی وزیر خارجہ جود ظریف نے پیر کے روز باور کرایا تھا کہ ایران میں عدلیہ آزاد اور خود مختار ہے .. نوید افکاری کو پھانسی احتجاج میں شرکت کرنے پر نہیں بلکہ ایک سیکورٹی اہل کار کے قتل کے جرم کا ارتکاب کرنے پر دی گئی ہے۔

ایرانی وزیر کے بیان کے چند گھنٹوں بعد سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنان نے منگل کو علی الصبح بتایا کہ گذشتہ نومبر میں گرفتار ہونے والا ایک احتجاجی نادر مختاری فوت ہو گیا ہے۔ مختاری لاٹھی کے ذریعے پیٹے جانے کے بعد طویل عرصے سے کومے میں تھا۔

ایرانی ویب سائٹ "کلمہ" کے مطابق 35 سالہ مختاری گذشتہ نومبر میں کرج کے علاقے میں احتجاج کرنے والے مظاہرین میں شامل تھا۔ وہ ہفتہ 19 ستمبر کو کہریزک جیل میں چل بسا۔

مزید یہ کہ مختاری کی لاش ابھی تک اس کے اہل خانہ کے حوالے نہیں کی گئی ہے۔ اس کے اہل خانہ کو شدید دباؤ اور دھمکیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تا کہ وہ میڈیا سے بات نہ کریں۔