.

حزب اللہ اور امل تحریک لبنان میں نئی حکومت کی تشکیل میں رکاوٹ، صدر کو معجزے کا انتظار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے صدر میشل عون نے کہا ہے کہ نامزد وزیراعظم مصطفیٰ ادیب نے ان سے چار بار ملاقات کی ہے۔ ادیب حکومت کی تشکیل میں ناکام ہیں۔ ناکامی کی وجہ حزب اللہ اور تحریک امل کی طرف سے عدم تعاون ہے۔ یہ دونوں جماعتیں شیعہ شخصیات کو وزارتیں دینے بالخصوص وزارت خزانہ کا عہدہ دلوانے پراصرار کررہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کی تشکیل میں تمام پارلیمانی گروپوں کو شامل کرنے کے موقف پر قائم ہیں۔

صدر عون نے کہا کہ لبنان کا دستور کسی ایک گروپ کو اس کی منشا کی وزارتیں دلوانے کی سفارش نہیں کرتا۔ فرقہ وارانہ بنیادوں پر کام کرنے والی جماعتوں کو کلیدی عہدوں‌ پر وزارتیں نہیں دی جاسکتیں۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ کے مطابق لبنانی صدر میشل عون نے مزید کہا کہ لبنان کے موجودہ حالات ایک منٹ ضائع کرنے کی بھی اجازت نہیں دیتے مگر ہم حکومت کی تشکیل کے جتنے امکانات ہوسکتے تھے آزما چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں حکومت کی تشکیل میں اب کسی معجزے کا ہی انتظار ہے۔ حکومت کی تشکیل کا درمیانہ اور منطقی حل فریقین کے لیے قابل قبول نہیں‌ ہو سکا ہے۔

صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے صدر عون نے کہا کہ نئی حکومت کی جلد تشکیل ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ لبنانی عوام جھنم جاتی دکھائی دے رہی ہیں۔

نامزد وزیراعظم مصطفیٰ ادیب نے کل سوموار کے روز لبنان کی تمام سیاسی قوتوں پر زور دیا تھا کہ وہ حکومت کی تشکیل کاعمل سہل بنانے کے لیے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔

لبنانی ایوان صدر کے مطابق تحریک امل اور حزب اللہ دونوں‌اپنی مرضی کی وزارتیں چاہتی ہیں جب کہ نامزد وزیراعظم انہیں ان کی مرضی کی وزارتیں دینے سے گریز کررہے ہیں۔