.

قطر کے بانی کے گرفتار پوتے شیخ طلال کی اہلیہ کی انسانی حقوق کونسل میں اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ریاستِ قطر کے بانی کے پوتے شیخ طلال آل ثانی کے معاملے میں دوحہ پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ طلال کی اہلیہ اسماء نے گذشتہ روز اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں اپنے شوہر کی رہائی کے لیے آواز اٹھائی۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کی متعلقہ کمیٹی کے سامنے وڈیو ٹیپ کے ذریعے سامنے آنے والے بیان میں اسماء کا کہنا تھا کہ "میرے شوہر کو فوری طور پر طبی نگہداشت اور ایک وکیل کی ضرورت ہے جس کو وہ اپنی آزادی سے منتخب کریں۔ دوران جیل ہی میرے شوہر کو جبری طور پر 22 برس قیدکی سزا سنا دی گئی۔ ان کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہے اور وہ جیل میں سنگین طبی حالات کا شکار ہیں"۔

قطری حکام کے ساتھ تنازع میں اکیلے مقابلہ کرنے والی اسماء نے گذشتہ روز فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ شیخ طلال کو نامعلوم مقام پر حراست میں رکھا گیا ہے اور تشدد اور جیل میں خراب سلوک کے باعث ان کی صحت بگڑ گئی ہے۔

اسماء نے زور دے کر کہا کہ ان کے شوہر کا معاملہ نہ صرف ان کی سیاسی پوزیشن کے سبب اہم ہے بلکہ اس لیے بھی کہ ہمارے خاندان کے خلاف قطری حکام کی جانب سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ،،، ایسے گہرے اور منظم مسائل ہیں جن کی جڑیں قطری حکومت اور انصاف کے نظام سے جا کر ملتی ہیں۔

اسماء نے بتایا کہ "شیخ طلال کی گرفتاری کے بعد قطری حکام نے مجھے دوران حمل تین چھوٹے بچوں سمیت صحراء میں ایک گھر میں منتقل کر دیا۔ یہ گھر رہنے کے قابل نہ تھا جہاں ایئرکنڈیشن بھی نہیں تھا اور تمام وقت نکاسی آب کے حوالے سے گندے پانی کا سامنا رہتا تھا۔ میں اور میرے بچے وہاں بیمار پڑ گئے جب کہ ہمیں بنیادی طبی نگہداشت اور دیکھ بھال بھی نہ ملی"۔

اسماء کے مطابق انہیں دھمکیاں بھی موصول ہوئیں جو ان کے خیال میں قطری حکومت کی جانب سے آئیں۔

اسماء اور ان کے بچے اس وقت جرمنی میں سیکورٹی حکام کی حفاظت میں رہ رہے ہیں۔ اس معاملے پر تبصرے کے لیے فوکس نیوز نے قطری وزارت خارجہ ، برلن ، برسلز اور واشنگٹن میں قطری سفارت خانوں سے رابطہ کیا مگر کہیں سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ جرمنی کی وزارت خارجہ نے فوکس نیوز کو بتایا کہ اسے اس معاملے کا پورا علم ہے مگر وہ مزید کوئی تبصرہ نہیں کرے گی۔

قطری حکام نے شیخ طلال بن عبدالعزیز بن احمد بن علی آل ثانی کو قرضوں کی عدم ادائیگی کے الزام میں 2013ء میں گرفتار کر لیا تھا۔

شیخ طلال کی اہلیہ اور ان کے امریکی وکیل مارک سوموس ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ سوموس کے مطابق قطر میں عدالتی نظام نے پراسرار طور پر سیاسی وجوہات کی بنا پر شیخ طلال کے خلاف مکر و فریب پر مبنی دعوے دائر کیے۔

سوموس نے فوکس نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ "ہم قطر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ شیخ طلال کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور انہیں جرمنی میں اپنے اہل خانہ کے پاس جانے دیا جائے"۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے 2014ء میں ایک خصوصی خاتون نمائندہ کا تقرر عمل میں آیا تھا تا کہ قطر میں ججوں کی خود مختاری اور آزادی کا جائزہ لے کر عدالتی حکام کو جانچا جا سکے۔ مذکورہ خاتون نمائندہ نے قانونی خامیوں کی صورتیں دیکھیں جن میں عدلیہ پر غیر موزوں طریقے سے اثر انداز ہونا شامل ہے۔

خاتون نمائندہ گبریلا کنول نے اس موقع پر اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ 2009ء میں یہ بات سامنے آئی کہ قطر میں 33 ججوں نے احتجاجا استعفا پیش کیا۔ ان ججوں کا موقف تھا کہ ان کے کام میں مسلسل مداخلت کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ طلال آل ثانی قطر کے سابق وزیر صحت عبدالعزیز بن احمد بن علی آل ثانی کے بیٹے اور قطر کے سابق امیر احمد بن علی آل ثانی کے پوتے ہیں