.

لیبیا میں نئی پیش رفت، خلیفہ حفتر اور عقیلہ صالح اچانک دورے پرمصر پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں‌ جنگ بندی کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کے جلو میں نیشنل آرمی کے سربراہ خلیفہ حفتر اور پارلیمنٹ کے اسپیکر عقیلہ صالح‌ اچانک کل منگل کی شام مصر پہنچ گئے۔ ان کا قاہرہ کا یہ دورہ کل صبح ہی ترتیب دیا گیا تھا۔

العربیہ چینل کے نامہ نگار کے مطابق لیبی لیڈروں کی قاہرہ آمد سے قبل ان کے دورہ مصر کے پروگرام کے بارے میں‌ اطلاعات آگئی تھیں۔ پہلے یہ اطلاع آئی کہ لیبیا کی فوج کے سربراہ جنرل خلیفہ حفتر ایک روزہ دورے پر قاہرہ پہنچ رہے ہیں۔ اس کے کچھ دیر یہ اطلاع ملی کہ پارلیمنٹ کے اسپیکر عقیلہ صالح بھی ان کے ہمراہ ہوں‌ گے۔ اس دورے کا مقصد لیبیا میں‌ جنگ بندی اور نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے جنیوا اور مراکش میں‌ ہونے والے اجلاسوں اور ان کے نتائج پر غور کیا جائے گا۔

خٰلیفہ حفتر کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی فوجی وفد بھی قاہرہ پہنچا ہے۔ انہوں‌ نے مصر کی جانب سے لیبیا کے معاملے کے لیے قائم کردہ کمیٹی کے عہدیداروں اور مصری سیکیورٹی حکام کے ساتھ بات چیت کی۔

ادھر اسی سیاق میں ذرائع نے بتایا ہے کہ مصری حکومت لیبیا کی پارلیمنٹ اور فوج کے درمیان جنیوا اور مراکش میں‌ ہونے والی مذاکراتی کوششوں کے حوالے سے موقف میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ خلیفہ حفتر اور عقیلہ صالح‌ کا یہ دورہ پہلے سے طے شدہ نہیں تھا۔ لیبی فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر ملک میں نئی قومی حکومت کی تشکیل اور لیبیا میں‌نئی فوج کی تشکیل پر بات چیت کریں‌ گے۔

ادھر دو روز قبل لیبیا کی قومی وفاق حکومت کے سربراہ فائز السراج کے وزیر دفاع صلاح نمروش نے ترکی کی معاونت سے ملک میں‌ فوج کی تشکیل نو کے پروگرام پرکام شروع کیا تھا۔ یہ پیش رفت ترکی اور قومی وفاق حکومت کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کا حصہ ہے۔