.

مملکت میں اصلاحات اور ترقی کے پروگراموں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے : شاہ سلمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے مملکت پر خالق کائنات کے عظیم فضل و احسان اور نعمتوں کے انعام پر اللہ تعالی کا شکر ادا کیا ہے۔ خادم حرمین شریفین کا یہ موقف منگل کے روز سعودی کابینہ کے ورچوئل اجلاس کے دوران سامنے آیا۔ یاد رہے کہ سعودی عرب میں آج 23 ستمبر کو مملکت کا قومی دن منایا جا رہا ہے۔

شاہ سلمان کے مطابق مملکت میں مختلف شعبوں میں اصلاحات اور ترقی کے پروگرام مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔ شہریوں اور غیر ملکی مقیمین کو امن و سکون کی نعمت حاصل ہے۔ شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود کے ہاتھوں سعودی عرب کے قیام کے وقت سے اب تک مملکت میں قرآن و حدیث مرکزی دستور ہے۔ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مملکت امتیازی اہمیت اور مقام رکھتی ہے۔ تمام عالمی فورمز پر سعودی عرب کو بھرپور اعتماد حاصل ہے۔ مملکت عرب اور اسلامی دنیا کے قضیوں کی خدمت کے لیے کوشاں ہے۔ حرمین شریفین کی دیکھ بھال اور توسیع سعودی عرب کی اولین ترجیح ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب کے نامزد وزیر اطلاعات ماجد القصبی نے ایک بیان میں واضح کیا کہ کابینہ نے کرونا وائرس کی وبا، اس کی علاقائی اور بین الاقوامی صورت حال اور اعداد و شمار اور ویکسین کے حوالے سے تمام رپورٹوں کا جائزہ لیا۔

اسی طرح کابینہ کے اجلاس میں مختلف عرب اور بین الاقوامی امور کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ان میں یمن کے حوالے سے وزارتی گروپ کی سطح پر جاری بیان (گروپ میں امریکا، چین، فرانس، روس، جرمنی، کویت، سویڈن اور یورپی یونین شامل ہے)، مارب پر حوثی ملیشیا کے حملے کے حوالے سے تشویش اور یمن کے بحران کے حل کے لیے جاری اقوام متحدہ کے زیر قیادت بین الاقوامی کوششوں کو پہنچنے والا نقصان شامل ہے۔ اس کے نتیجے میں یمن میں انسانی بحران کی سنگینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

القصبی کے مطابق سعودی کابینہ نے ایک بار پھر باور کرایا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی بھی جوہری معاہدہ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کرے گا۔ اس سے مشرق وسطی کو وسیع تباہی کے ہتھیاروں سے پاک کرنے کی کوششوں میں مدد ملے گی۔ خطے اور دنیا کے عدم استحکام کا سبب بننے والے ایران کے رویے اور دہشت گردی کے لیے اس کی سرپرستی سے نمٹا جا سکے گا۔ ایران ایک نارمل ریاست کی طرح پیش آ کر عالمی برادری کے دھارے میں شامل ہو سکے گا جس کے ثمرات سے ایرانی عوام براہ راست مستفید ہوں گے۔

کابینہ کے اجلاس میں سعودی عرب کی جانب سے میانمار کے معاملے اور روہنگیا مسلم اقلیت اور میانمار میں دوسری اقلیتوں کے مسائل پر توجہ اور اہتمام پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 45 ویں اجلاس میں سعودی عرب کی جانب سے عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ روہنگیا مسلم اقلیت کے خلاف پرتشدد کارروائیاں رکوانے اور انہیں جائز اور قانونی حقوق دلوانے کے لیے فوری طور پر حرکت میں آئے۔ ساتھ ہی جبری ہجرت پر مجبور ہو جانے والے مسلمانوں کی محفوظ اور پر امن واپسی کو یقینی بنایا جائے۔