.

یمن : لڑائی کے محاذوں سے فرار ہونے والوں کے گھر والوں کو حوثی ملیشیا کی سخت دھمکیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حوثی ملیشیا نے مارب صوبے کے جنوب اور الجوف صوبے کے مشرق میں جاری معرکہ آرائی میں لڑائی کے میدان سے بھاگ جانے والے یمنی بچوں کے گھر والوں کو شدید ترین سزا کی دھمکی دی ہے۔

عربی روزنامے الشرق الاوسط کے ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیا کے سیکڑوں ارکان مارب صوبے میں ماہلیہ اور رحبہ کے ضلعوں میں اپنے ٹھکانوں کو چھوڑ چکے ہیں۔ اس کی وجہ یمنی فوج کے سامنے لڑائی جاری رکھنے کی عدم قدرت اور آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کے لڑاکا طیاروں کے حملے ہیں۔

کئی ماہ سے مارب صوبے میں مسلسل حملوں اور ملحقہ صوبے الجوف میں جاری معرکوں میں ہزاروں ارکان کی ہلاکت کے بعد حوثی ملیشیا کو جنگجوؤں کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حوثی ملیشیا کے کمانڈروں نے قبائلی سرداروں پر یہ ذمے داری مسلط کر دی ہے کہ وہ بھرتیوں کی مہم میں اضافہ کریں تا کہ مارب صوبے میں پیش قدمی ممکن بنائی جا سکے۔

جبل مرد اور المناقل کے محاذوں کے علاوہ مارب صوبے میں جنوبی ضلع رحبہ اور البیضاء صوبے میں ردمان ، سوادیہ اور ولد ربیع کے ضلعوں سے حوثی ملیشیا کے درجنوں جنگجو فرار ہو گئے۔ یہ صورت حال مذکورہ محاذوں پر یمنی فوج کے ہاتھوں سیکڑوں حوثیوں کے مارے جانے کے بعد سامنے آئی۔

حوثی ملیشیا نے اپنے نگرانوں کو پابند بنایا کہ وہ محاذ سے فرار ہونے والوں کا تعاقب کریں اور ان کے اہل خانہ کو خبردار کریں کہ مفرور ارکان کو عسکری کیمپوں میں ہر صورت واپس بھیجیں۔ بصورت دیگر یہ اہل خانہ عرب اتحاد اور آئینی حکومت کے حامی شمار ہوں گے اور انہیں شدید سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب منگل کے روز صنعاء کے مشرق میں واقع ضلع نہم میں صلب کے محاذ پر یمنی فوج کی فائرنگ سے متعدد حوثی ارکان ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ یمنی مسلح افواج کے میڈیا سینٹر کے مطابق فوج نے صلب کے محاذ پر حوثی ملیشیا کے ایک گروپ کو گھات لگا کر نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں متعدد حوثی جنگجو ہلاک اور زخمی ہو گئے جب کہ بقیہ فرار ہو گئے۔