.

'قلعہ تاروت' جسے سعودی وزیر ثقافت نے بیش قیمت خزانہ قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے جزیرے 'تاروت' کا تذکرہ کرتے ہوئے اگر وہاں پر موجود تاریخی قلعے 'تاروت' پر بات نہ کی جائے تو ہم بہت اور تاریخی اہمیت کے حامل مقام کو فراموش کردیں گے۔

جزیرہ تاروت کی سیر کرنےکے لیے آنے والے سیاحوں کی منزل قلعہ تاروت ہے۔ یہ وہ قلعہ ہے جس کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے پیش نظر اسے سعودی عرب کے وزیر ثقافت نے بیش قیمت خزانہ قرار دیا۔

اگرچہ جزیرہ تاروت میں کئی اور تاریخی عمارتیں، پرانی تہذیبوں کی باقیات، قدیم ترین ایک قصبے کا مرکز، عوامی ہوٹل، پرانے میوزیم اور کئی دوسرے مقامات مشرقی سعودی عرب کی قطیف گورنری اور اطراف کےسیاحوں کی توجہ کا خاص مرکز ہوتے ہیں، مگر قلعہ تاروت کی اپنی کی داستان ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایک رپورٹ میں سعودی عرب کے اس تاریخی قلعے کے ماضی پر اور حال پر روشنی ڈالی ہے۔

'قلعہ تاروت' خلیج عرب کے پرانے اور ساحلی قلعوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ قلعہ جزیرہ تاروت، جزیرہ المسک اور الولو کے درمیان واقع ہے۔ سعودی عرب کے شمال میں واقع یہ بڑے جزائر کہلاتےہیں۔ مورخین کا کہنا ہے کہ یہ قلعہ اس ٹیلے پر تعمیر کیا گیا جہاں خیال کیا جاتا ہے کہ پہلی انسانی آبادیوں میں سے ایک بنائی گئی تھی۔ گویا اس کی یادیں پتھر کے دور سے آج تک کی پانچ مختلف تہذیبوں کے ساتھ منسلک ہیں۔

سعودی عرب کے وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان آل سعود نے اس قلعے کو مملکت میں ثقافت خزانہ قرار دیا۔ اس قلعے میں کئی صدیوں پرانے آثار اور باقیات موجود ہیں۔ یہاں سے لائی گئی نوادرات نے دمام اور الریاض کے قومی عجائب گھروں کی زینت اور ان کی اہمیت میں اضافہ کیا۔

جزیرہ تاروت میں 'تاروت' کےنام سے قائم اس قلعے کی تعمیر 1500 سال قبل بتائی جاتی ہے۔ یہہ قلعہ 600 مربع میٹر پر ایک سطح مرتفع پر بنایا گیا ہے۔ بعض مورخین کا کہنا ہے کہ یہ قعہ عیونیہ بادشاہت کے دور میں پرتگیزیوں نے 1521 اور 1525ھ کے عرصے میں تعمیر کیا۔ بعض اسے قرامطہ کےدور کی یادگار سمجھتے ہیں۔

سعودی وزارت ثقافت نے سنہ 1984ء کو اس قلعے کی مرمت کی۔ اسے سعودی عرب کے قدیم اور تاریخی قلعوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے قریب کئی خلیجی بندرگاہیں واقع ہیں۔

بحیرہ عرب اور ہندستان کی طرف سفر کرنے والے قافلوں کے مسافر اس قلعے میں پڑاو کرتے۔ اس قلعے سے برآمد ہونے والی نودارات میں کئی مورتیاں بھی شامل ہیں۔ ایک مورتی کو'وفادار غلام' کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کے اطراف میں کی جانے والی کھدائیوں سے ہزاروں سال پرانے تانبے اور مٹی کے برتن دریافت ہوئے۔ پرانہ اسلحہ اور گھروں میں استعمال کی دیگر اشیا ملیں۔ کہا جاتا ہے یہ جہاں قلعہ تاروت آج کھڑا ہے وہاں پر پانچ ہزار قبل مسیح پہلی انسانی آبادی قائم ہوئی تھی۔