.

امریکا کی عراق کو ایران سے درآمدہ بجلی کے واجبات ادا کرنے کے لیے 60 دن کی مہلت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نےعراق کو ایران سے درآمد کردہ بجلی کے واجبات ادا کرنے کے لیے مزید 60 دن کی مہلت دے دی ہے۔اس کے بعدایران سے بجلی لینے کی صورت میں اس کو پابندیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

امریکا نے عراق پر زوردیا ہے کہ وہ ایران سے درآمدہ توانائی پر انحصار کم کرنے کے لیے بامقصد اقدامات کرے۔ عراق اپنے پڑوسی ملک ایران سے بجلی کے علاوہ سوئی گیس بھی درآمد کررہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے 2015ء میں طے شدہ جوہری معاہدے سے مئی 2018ء میں دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔اس کے بعد سے اس نے ایران کے خلاف پابندیاں کےنفاذ کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جس کے نتیجے میں ایرانی معیشت زبوں حال ہوچکی ہے۔

امریکی قانون کے تحت ایران سے کاروبار کرنے والے افراد اور ادارے بھی از خود ہی پابندیوں کی زد میں آجاتے ہیں۔البتہ امریکا نے اپنے اتحادی عراق کو ایران سے بجلی لینے پر ان پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دے رکھا ہے۔عراق کو اس سے پہلے بھی امریکا نے متعدد مرتبہ 90 یا 120 روز کے لیے پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدہ دار نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ پابندیوں سے استثنا کا مقصد عراق کو اپنی توانائی کی قلیل المیعاد ضروریات کو پورا کرنے کے قابل بنانا ہے تاکہ وہ ایران سے حاصل کی جانے والی بجلی پر انحصار کم کرنے کے لیے اقدامات کرسکے۔

ان کا کہنا تھا’’ہمیں یقین ہے کہ عراقی حکومت 60روز میں توانائی میں خودکفیل ہونے کے لیے بامقصد اقدامات کرسکے گی۔‘‘

امریکا ایک عرصے سے عراق پر زور دے رہا ہے کہ وہ ملک میں بجلی اور گیس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے قابل عمل اقدامات کرے اور ایران کے سایہ سے نکلے۔