.

ترکی : فوجیوں نے 2 زیر حراست شہریوں کو ہیلی کاپٹر سے نیچے پھینک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے ایک ہسپتال کے ریکارڈ نے مقامی میڈیا میں چند روز قبل گردش میں آنے والی ان خبروں کی تصدیق کر دی ہے جن میں بتایا گیا تھا کہ تُرک فوجیوں نے فوجی ہیلی کاپٹر سے دو شہریوں کو نیچے گرا دیا۔ پھینکے گئے دونوں شہریوں میں ایک شدید زخمی ہو جب کہ دوسرا اپنی یادداشت کھو بیٹھا۔ تاہم فان شہر کے میئر نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں افراد میں سے ایک شخص فوجیوں کی حراست سے فرار کے دوران چٹان سے گر گیا۔

ترک فوجیوں نے 9 ستمبر کو ایک سیکورٹی آپریشن کے دوران عثمان شیبان اور ثروت تورگورت کو حراست میں لیا تھا۔ دونوں افراد کو ملک کے مشرق میں چاتک کے علاقے میں رکھا گیا تھا۔ دونوں شہریوں کے لاپتہ ہو جانے کے دو روز بعد ان کے گھرانے فان شہر کے ایک ہسپتال میں ان کا پتہ چلانے میں کامیاب ہو گئے۔

ایک خبر رساں ایجنسی کے مطابق مذکورہ ہسپتال کے ریکارڈ سے تصدیق ہوتی ہے کہ دونوں افراد ہیلی کاپٹر سے گرنے کے سبب زخمی ہوئے۔ ان میں عثمان شیبان اپنی یادداشت سے محروم ہو گیا ہے۔ گذشتہ اتوار کے روز ہسپتال سے رخصت ہونے کے بعد فان میں سرکاری پراسیکیوٹر نے منگل کے روز حکم دیا کہ عثمان کو جبری طور پر فوجی ہسپتال منتقل کیا جائے۔

خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ دوسرا شخص ثروت تورگورت کی حالت ابھی تک تشویش ناک ہے۔ تاہم ہسپتال کی انتظامیہ نے اسے ایمبولینس کی گاڑی میں اس کے گھر والوں کے ساتھ ملک کے جنوبی صوبے مرسین منتقل ہونے کی اجازت دے دی۔

دونوں شہریوں کے وکلاء کے مطابق جو لوگ شیبان اور توگورت کو ہسپتال لے کر آئے ان کا کہنا تھا کہ دونوں افراد کو ہیلی کاپٹر سے پھینکا گیا۔ وکلاء نے بتایا کہ یہ بات ہسپتال کے ریکارڈ میں درج کی گئی۔

ترکی میں کردوں کی حامی ڈیموکریٹک پیپلز پارٹی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ واقعے کے حوالے سے وضاحت پیش کرے۔ پارٹی کے مطابق 10 روز گزر جانے کے باوجود حکومت یا مقامی حکام کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر اس جرم کا ارتکاب حکومتی احکامات پر نہیں ہوا تو پھر حکومت پر لازم ہے کہ وہ فوی طور پر بیان جاری کرے۔ بصورت دیگر حکومت کا خاموش رہنا تاریخ میں اس کے اعتراف جرم کے طور رقم ہو گا۔