داعش کے سربراہ کے سر کی قیمت 1 کروڑ ڈالر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی وزارت خارجہ نے جمعرات کے روز ایک بار پھر اپنی اس پیش کش کو دہرایا ہے کہ داعش تنظیم کے نئے سربراہ حجی عبداللہ کی گرفتاری میں مدد گار ثابت ہونے والی معلومات فراہم کرنے والے کو 1 کروڑ امریکی ڈالر کی انعامی رقم دی جائے گی۔

امریکی وزارت خارجہ کے زیر انتظام پروگرام Reward for Justice کے سرکاری اکاؤنٹ کی جانب سے جمعرات کے روز ایک ٹویٹ میں کہا گیا کہ "حجی عبداللہ ایک دہشت گرد اور غدار ہے۔ لہذا جو بھی دہشت گردی سے نفرت کرتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ حجی کے بارے میں اطلاع دے۔ ہم اس کے ذریعے داعش کی نئی کمان کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں .. جی ہاں 1 کروڑ ڈالر کا انعام .. آپ سے رہ نہ جائے"۔

مذکورہ پروگرام Reward for Justice کے تحت امریکی وزیر خارجہ ایسی کسی بھی معلومات کے مقابل انعامی رقم مختص کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں امریکی شہریوں یا ان کی املاک کے خلاف دہشت گردی کی بین الاقوامی کارروائیوں کی منصوبہ بندی یا انہیں انجام دینے کی کوشش کرنے والے کسی بھی شخص کی گرفتاری عمل میں آئے۔ علاوہ ازیں ایسی معلومات جو کسی مرکزی دہشت گرد سربراہ کی جگہ متعارف کرانے یا پھر دہشت گردی کی فنڈنگ روکنے میں معاون ثابت ہو۔

امریکی وزارت خارجہ نے رواں سال جون میں حجی عبداللہ کی گرفتاری میں مدد گار ثابت ہونے والی معلومات کے عوض رکھی گئی انعامی رقم 50 لاکھ ڈالر سے دو گنا کر کے 1 کروڑ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس موقع پر Justice for Reward پروگرام نے ٹویٹ میں حجی عبداللہ کے بجائے "محمد سعيد عبد الرحمن المولى" کا نام لکھا تھا جو حجی کا اصل نام ہے۔

حجی مختلف ناموں کا استعمال کرتا ہے جن میں ابو عمر التركمانی اور عبد الامير محمد سعيد الصلبی شامل ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ کے مطابق حجی کی پیدائش 1976ء میں عراق کے شہر موصل میں ہوئی۔ داعش تنظیم کے بانی اور سربراہ ابو بکر البغدادی کی ایک امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد حجی نے تنظیم کی قیادت سنبھالی۔

مقبول خبریں اہم خبریں