.

کیا یونانی بحریہ نے واقعتا اسرائیل اسمگل ہونے والی لبنانی رقوم کا راستہ روکا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی عوام کو سنگین اقتصادی بحران کا سامنا ہے جس کا تمام تر ذمے دار انہوں نے سیاسی طبقے اور بینکوں کو ٹھہرایا ہے۔ ایسے میں اخباری ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر یہ خبر سامنے آئی ہے کہ یونانی حکام نے اسرائیل جانے والے ایک بحری جہاز کو روک لیا۔ جہاز پر لبنانی اور اسرائیلی کاروباری افراد سوار تھے اور لبنان سے اسمگل کی جانے والی ایک بڑی رقم بھی موجود تھی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ خبر اتوار 20 ستمبر 2020ء کو گردش میں آئی۔

خبر روایت کے کسی بھی مضبوط پہلو سے خالی ہے۔ اس میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ جہاز کس بندرگاہ سے روانہ ہوا۔ خبر میں یہ بھی واضح نہیں کہ وہ کون سا سبب ہے جس نے لبنانیوں کو کسی بھی دوسرے ملک کے بجائے اسرائیل فرار ہونے پر مجبور کیا۔

اس کے باوجود یہ خبر لبنان میں سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر پھیل گئی۔ خبر کے منظر عام پر آنے کے چند گھنٹوں بعد لبنانیوں نے جن میں سیاسی ذمے داران شامل ہیں ،،، عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معلومات کی بنیاد پر حرکت میں آئے۔

دوسری جانب یونانی بحریہ نے ایتھنز میں فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے دفتر کو باور کرایا کہ اسے اس خبر کا کوئی علم نہیں اور یہ بے بنیاد ہے۔ اسی طرح ایتھنز میں ساحلی پولیس کی فورس نے بھی تصدیق کی کہ اسے ایسے کسی بحری جہاز کا سامنا نہیں کرنا پڑا جس پر لبنانی اور اسرائیلی کاروباری شخصیات اور بینکرز اور مالی رقوم موجود ہوں۔

ایک لبنانی سیکورٹی ذریعے نے بھی فرانسیسی خبر رساں ایجنسی سے ٹیلیفونک گفتگو میں اس خبر کو جھوٹا قرار دیا اور بتایا کہ اس میں کوئی ایک درست معلومات موجود نہیں۔ ذریعے کے مطابق "اگر بحیرہ روم میں ایسا کوئی واقعہ پیش آتا تو ہمیں اس بارے میں ضرور علم ہوتا مگر یہ خبر بے بنیاد ہے"۔

البتہ اس خبر کی پوسٹ کے ساتھ جو تصاویر منسلک ہیں وہ چند ماہ قبل اس وقت سامنے آ چکی ہیں جب یونانی جنگی بحری جہاز نے لیبیا کے سواحل کے نزدیک ترکی کے ایک بحری جہاز کو روکا تھا۔