.

السیستانی کے یو این نگرانی میں انتخاب کے مطالبے پر ایرانی میڈیا خفا ہو گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقرب اخبار 'کیھان' نے عراق کے سرکردہ شیعہ رہ نما آیت اللہ علی السیستانی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اخبار نے السیستانی کے اس بیان پر کڑی نکتہ چینی کی جس میں انہوں‌ نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں عراق میں آزادنہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد پر زور دیا تھا۔

روزنامہ 'کیھان' نے اداریے میں لکھا ہے کہ آیت اللہ علی السیستانی کا عراق میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ ان کے 'رتبے اور مقام' کے خلاف ہے۔

اخبار کے مدیر اعلیٰ حسین شریعت مداری، جنہیں خامنہ ای کا قرب حاصل ہے، نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ آیت اللہ علی السیستانی کا ملک میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ حیران کن ہے۔

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ 'جناب السیستانی صاحب آپ کا یہ مطالبہ کہ عراق میں انتخابات اقوام متحدہ کی نگرانی میں‌ کرائے جائیں ایک غلط مطالبہ ہے۔ کوئی حرج نہیں کہ آپ اپنا بیان واپس لیں اور کہیں کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کہا ہے'۔

شریعت مداری کا کہنا ہے کہ آیت اللہ علی السیستانی کا انتخابات میں اقوام متحدہ کی نگرانی کا مطالبہ اس بات کا واضح اظہار ہے کہ عراق 'سیاسی افلاس' کا شکار ہے۔

شریعت مداری کی طرف سے یہ تنقید ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری طرف ایران پر عراق کے شیعہ مذہبی گروپوں کی پشت پناہی کا الزام ہے۔ عراق کے شیعہ سیاسی گروپوں پر ایران کے اثر رسوخ کی وجہ سے عراق میں انتخابات کے دوران ایران کے مرضی کے لوگوں‌کی کامیابی کے امکانات ظاہر کیے جاتے رہے ہیں۔

گذشتہ جولائی میں ایران کی 'مہر'نیوز ایجنسی نے عراقی وزیراعظم مصطفیٰ‌ الکاظمی کو ایران نواز ملیشیائوں‌ کے خلاف کارروائی کرنے پر کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عراقی حکومت کے اقدامات کو'تخریب کاری' قرار دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں