.

حزب اللہ کے فنڈنگ کے حصول کے ذرائع کیا ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے ایک تھینک ٹینک 'انسٹیٹیوٹ فار ڈیفینس آف ڈیموکریسز' کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی فنانسنگ کے مختلف ذرائع پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

الحدث چینل کے مطابق امریکی تھینک ٹینک کی رپورٹ‌ میں کہا گیا ہے کہ حزب اللہ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کو اپنے مالی وسائل کے حصول کے لیے استعمال کرتی ہے۔

منی لانڈرنگ کا ایک پیچیدہ نیٹ ورک جنوبی امریکا سے افریقہ تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ نیٹ ورک حزب اللہ ملیشیا کو رقم فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ حزب اللہ لبنان کے سرکاری اور بین الاقوامی مالیاتی نظام پر بھی انحصار کرتی ہے۔

پہلا چینل جس کے ذریعے یہ رقم گذرتی ہے وہ "لانڈرومیٹ" کہلاتا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کے ذریعے حزب اللہ ملیشیا منشیات ، اسلحے اور انسانی اسمگلنگ جیسے مجرمانہ طریقوں سے مالی وسائل جمع کرتی ہے۔

تجارت کے ذریعہ منی لانڈرنگ حزب اللہ کا دوسرا ذریعہ آمدن ہے۔ ایک بار جب یہ مال سرکاری مالیاتی نظام میں داخل ہوجاتا ہے تو حزب اللہ اس مجرمانہ نیٹ ورک کو قیمت واپس کردیتی ہے جس میں وہ سامان خرید کر تعاون کرتا ہے۔

یہاں سامان کے وزن اور قیمت میں ہیرا پھیری کی جاتی ہے یا یہاں تک کہ جعلی دستاویزات بھی ہوتی ہیں تاکہ فنڈز کی منتقلی کا جواز پیش کیا جاسکے۔

لبنانی بینک بھی حزب اللہ ایک اہم ذریعہ ہے۔ رپورٹ میں ملیشیا اور متعدد بینکوں کے مابین مضبوط تعلقات کے بارے میں بات کی گئی ہے۔اس مشکوک تعاون کے نتیجے میں لبنان میں ہونے والی مالی تباہی کا حزب اللہ کو بھی بنیادی ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ "عود" ، "بلوم" اور "لبنانی فرانسیسی بینک" اور دیگر ممالک کے بینک حزب اللہ کے معاون سمجھے جاتے ہیں۔

فنانسنگ چینلز کے علاوہ اسمگلنگ کی دکانیں بھی ہیں جن پر حزب اللہ انحصار کرتی ہے۔ ان میں سے کچھ سرحد پار سے غیر قانونی ذریعے سے سامان لاتی ہیں۔ اس کے لیے ملک کی تین بندرگاہیں اور ہوائی اڈے استعمال ہوتے ہیں۔ بیروت کا رفیق حریری ہوائی اڈا بھی اس میں شامل ہے۔ ہوائی اڈے کی حفاظت میں اس کے وفادار اہلکار تعینات ہوتے ہیں جو بیرون ملک سےلگژری سامان ، گھڑیاں اور کاریں اسمگل کرکے حزب اللہ کے قائم کردہ مراکز میں پہنچاتے ہیں۔

دوسری بیروت کی بندرگاہ ہے جہاں دھماکے سے تباہی ہوئی۔ یہاں حزب اللہ نے غیرقانونی طریقے سے حاصل کردہ بڑی مقدار میں اسمگلنگ کا سامان ذخیرہ کررکھا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں