.

مصری عدالت کا یہودی پیشوا کی باقیات اسرائیل کے حوالے نہ کرنے کا حتمی فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک اعلیٰ انتظامی عدالت نے سرکردہ یہودی ربی یعقوب ابو حصیرہ کی باقیات اسرائیل کے حوالے نہ کرنے اور اس کے مزار پر سالانہ تقریبات کے انعقاد کی اجازت نہ دینے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ آنجہانی ابو حصیرہ کی قبر مصر کی البحیرہ گورنری میں ہے۔

مصر کی انتظامی عدالت کے فیصلے میں‌ کہا گیا ہے کہ یہودی ربی کی باقیات کو اسرائیل کے‌ حوالے نہیں‌ کیا جا سکتا۔ مصر کی اپنی مذہبی روایات اور رواداری پر مبنی اصول ہیں۔ یہودی پیشوا کی باقیات کو اسرائیل کے حوالے نہیں کیا جا سکتا کیونکہ مصر میں اہل کتاب کو یکساں‌ حقوق حاصل ہیں۔

عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ یہودی مذہبی پیشوا ابو حصیرہ کی میت اسرائیل کے حوالے کرنا اسلام کے رواداری کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اسلام اہل کتاب کو عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہودی ربی کی میت محض اس لیے اسرائیل کے حوالے نہیں‌ کی جاسکتی کہ وہ ایک یہودی ہے۔ مصری وزیر ثقافت کے فیصلے پرعمل درآمد نہیں‌ کیا جا سکتا جس میں‌ کہا گیا ہے کہ القدس میں اسلامی اور قبطی باقیات موجود ہیں۔

خیال رہے کہ یہودی ربی یعقوب ابو حصیرہ کے والد یعقوب بن مسعود ابو حصیرہ مراکش سے تعلق رکھنے والے ایک یہودی تھے جو 1806ء میں مصر آ گئے۔ انہوں‌ نے سنہ 1880ء میں مصر میں وفات پائی۔ انہیں ایک یہودی ربی کا درجہ حاصل رہا ہے۔ مصر کی البحیرہ گورنری میں دمتیورہ کے مقام پر ایک مزار ہے۔ یہودی ربی کی قبرپر سالانہ ہونے والی مذہبی تقریبات میں ہزاروں یہودی حاضری دیتے ہیں۔

مصری وزارت ثقافت نے سنہ 2011ء میں یہودی ربی کی باقیات مصر کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم سنہ 2014ء کو اسکندریہ کی عدالت نے وزارت ثقافت کا فیصلہ مسترد کردیا تھا۔ بعد ازاں اس مقدمے کو مصر کی اعلیٰ انتظامی عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا جس نے اپنے تازہ فیصلے میں ماتحت انتظامی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے یہودی ربی کی میت اسرائیل منتقل کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں