.

مصر سے مفرور اخوان قیادت ترک شہریت کے حصول کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ مصر سے فرار کے بعد ترکی میں پناہ لینے والے اخوان المسلمون کے رہ نماوں نے ترک شہریت کے حصول کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ یہ پیش رفت ترک وزیر داخلہ سلیمان صویلو کی درخواست پر سامنے آئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ‌ کے مطابق انقرہ میں مقیم اخوان کے ایک مرکزی رہ نما حسام الشوریجی نے ترک وزیر داخلہ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں انہوں‌ نے ترک شہریت کے حصول کی درخواست کی ہے۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب دوسری طرف یہ خبریں بھی آ رہی ہیں کہ ایردوآن حکومت مصر کے ساتھ سمندری حدود پر جاری تنازع کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ اس حوالے سے انقرہ اخوان کے مفرور عناصر کو مصر کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔

اب تک ترکی سیکڑوں اخوان رہ نماوں اور جماعت کی سرکردہ شخصیات کو اپنے ہاں‌ پناہ دیے ہوئے ہے۔ یہ لوگ ترکی کی سرزمین سے اپنے پروپیگنڈہ ٹی وی چینل بھی چلاتے ہیں جن کہ مصر سمیت کئی دوسرے ممالک نے اخوان کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ابھی تک ترک حکومت اخوان المسلمون کے پناہ گزین عناصر کے بارے میں کئی ٹھوس فیصلہ نہیں‌کر سکی۔ ان کی مصر میں واپسی ان کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔

ترکی کی اخوان کی حمایت پر مبنی پالیسی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ صدر طیب ایردوآن کے ایک مشیر یاسی اقطائی نے حال ہی میں ایک ٹی وی چینل پر اعتراف کیا تھا کہ اخوان المسلمون ترکی کی ترقی میں اہم کردارا دا کر رہےہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی اخوان کو ختم شدہ خلافت کے نائب کے طور پر دیکھتی ہے۔