.

امریکا کی عراق کو تنبیہ 'کام دکھا گئی'، راکٹ حملوں پرتحقیقات کمیشن کےقیام کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی طرف سے عراقی حکومت کو بغداد میں سفارت خانے پرمسلسل راکٹ حملوں پر دی گئی تنبیہ کی طرف سے عراق نے ان حملوں کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی سطح پر تحقیقات کمیشن کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کے مطابق حال ہی میں امریکا نے عراق کو خبردار کیا تھا کہ اس نے بغداد میں امریکی سفارت خانے کو راکٹ حملوں سے تحفظ فراہم نہ کیا اور ایران نواز عسکریت پسندوں کو نکیل نہ ڈالی تو امریکا اپنا سفارت خانہ بند کرنے پرمجبور ہوجائے گا۔ امریکا نے ان حملوں کی روک تھام کے ساتھ ساتھ ان کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

عراق کی حکومت نے امریکی وارننگ کے بعد آج سوموار کے روز ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی ہے جو امریکی سفارت خانے اور دیگر امریکی تنصیبات پرحملوں‌کی انکوائری کرے گی۔ تحقیقات کے دوران عراق میں سماجی کارکنوں اور سول سوسائٹی کی شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ کے معاملے کی بھی چھان بین کرکے اس میں‌ملوث عناصر کی نشاندہی کی جائے گی۔

خیال رہے کہ امریکی حکومت کے ایک ذمہ دار ذریعے نے بتایا ہے کہ انٹیلی جنس اداروں کو پتا چلا ہے کہ بعض عسکری گروپوں نے امریکی سفارت خانے پر دھاوا بولنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔

اتوار کی شام موصول ہونے والی رپورٹوں میں امریکی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ "ہمارے پاس ایسی معلومات ہیں جن کے مطابق سفارت خانے پر دھاوا بولنے اور وہاں موجود افراد کو یرغمال بنانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے"۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بغداد میں امریکی سفارت خانے کی بندش سے گریز کے لیے عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کو مطالبات پیش کر دیے ہیں۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پومپیو نے بندش سے قبل الکاظمی کو ان مطالبات پر عمل درامد کے لیے مہلت دی ہے۔

البتہ ذرائع نے بغداد میں امریکی سفیر میتھیو ٹولر کے اربیل کوچ کر جانے سے متعلق گردش میں آئی خبروں کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ امریکا نے اس بات کی تردید کر دی ہے۔

ادھر العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے نمائندے کے مطابق پومپیو نے الکاظمی کو آگاہ کیا کہ واشنگٹن امریکی سفارت خانے کو مسلسل نشانہ بنائے جانے سے تنگ آ چکا ہے۔

العربیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پومپیو کی جانب سے عراقی قیادت کو دی گئی مہلت پیر کے روز ختم ہو رہی ہے۔