.

شاہ عبداللہ نے اردن کی پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا فرمان جاری کر دیا

’’پارلیمنٹ کی تحلیل کے بعد حکومت کو ایک ہفتے کے اندر مستعفی ہونا آئینی تقاضہ ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے شاہ عبداللہ نے پارلیمنٹ تحلیل کردی۔ ایک شاہی فرمان کے ذریعے تحلیل کی جانے والی پارلیمنٹ کے نتیجے میں بننے والی حکومت ایک ہفتے کے اندر مستعفی ہوجائے گی۔

اردن کی سرکاری خبر رساں ’’پیٹرا‘‘ کے مطابق اردنی حکام کا کہنا ہے کہ آئینی قوانین کے تحت پارلیمنٹ کی تحلیل کے بعد حکومت کو ایک ہفتے کے اندر مستعفی ہوجانا چاہیے اس سے نومبر میں انتخابات کی راہ ہموار ہوگی۔

اردن میں الیکشن کمیشن نے پارلیمنٹ کے مدت ختم ہونے پر 29 جولائی میں بیان جاری کرکے کہا تھا کہ 10 نومبر کو اردن میں پارلیمانی انتخابات ہوں گے۔

اردن میں پارلیمانی انتخابات 20 ستمبر 2016 کو ہوئے تھے۔ پارلیمنٹ نے اپنی چار سالہ مدت مکمل کرلی ہے۔

حکومت اردن نے 31 اگست 2016 کو نیا انتخابی قانون منظور کیا تھا۔ اس کے تحت ارکان پارلیمنٹ کی تعداد 150 سے گھٹا کر 130 کردی گئی جبکہ ووٹر کو امیدواروں کی فہرست میں شامل ایک سے زیادہ امیدواروں کو ووٹ دینے کا حق دیا گیا ہے۔

گذشتہ پارلیمانی انتخابات میں 4.1 ملین ووٹروں میں سے 1.5 ملین نے ووٹ ڈالے تھے جبکہ اس سے قبل 2013 کے انتخابات میں 2.1 ملین ووٹروں نے حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔