.

عراق میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کی امریکی سفارت خانے پر حملے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں ایرانی حمایت یافتہ ایک عسکری گروپ 'النجباء ملیشیا' کے سربراہ اکرم الکعبی نے بغداد میں قائم امریکی سفارت خانے پر حملوں کی دھمکی دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس اب پیچیدہ ہتھیار بھی موجود ہیں اور ہم ان کی مدد سے امریکی سفارت خانے اور امریکی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

یہ دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری جانب ذی قار گورنری میں البطحا کےمقام پر مسلح افراد نے اتحادی فوج کے ایک قافلے پر بم حملہ کیا جس کےنتیجے میں ایک گاڑی کو نقصان پہنچا ہے تاہم حملے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ بم حملے کے باوجود قافلے نے اپنی منزل مقصود کی طرف سفر جاری رکھا۔

ادھر دوسری جانب عراق کی انسداد دہشت گردی فورسز نے بغداد میں گرین زون کے مقام پر امریکا اور برطانیہ کےسفارت خانوں پرحملوں میں ملوث عسکریت پسندوں اور ان کےمیزائل ٹھکانوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا ہے۔

گرین زون بغداد کا حساس علاقہ ہے جہاں امریکا، برطانیہ اور دوسرے ممالک کے سفارت خانے اور حکومت کے اہم دفاتر واقع ہیں۔

دو ہفتے قبل بغداد میں برطانوی سفارت خانے کی ایک گاڑی پر بھی بم حملہ کیا گیا تھا اہم اس حملے میں گاڑی کو معمولی نقصان پہنچا البتہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

گذشتہ ماہ عراقی وزیراعظم مصطفیٰ‌الکاظمی کے دورہ امریکا کے بعد بغداد میں امریکی تنصیبات اور سفارت خانے پر حملوں میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ انہوں‌نے امریکی حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ سرپھرے اور ریاست کے باغی عناصر کو قابو کرنے اور ان کے حملوں کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کریں گے۔ امریکا ان حملوں‌ کی ذمہ داری ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروپوں پرعاید کرتا ہے۔