.

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بغداد اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات کی "نئی حقیقت" کا انکشاف کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسا نظر آ رہا ہے کہ امریکی حکومت عراق میں اٹل اور ناقابل واپسی اقدامات کا عزم کر چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ان اقدامات کے ذریعے عراق میں سفارتی اور سیکورٹی منظر نامے کو تبدیل کر سکتی ہے اور ساتھ ہی عراقیوں اور ایرانیوں کے ساتھ تعامل کے حوالے سے ایک نئی حقیقت سامنے آ سکتی ہے۔ اگر ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں نہ رہے تو ان کی جگہ آنے والا امریکی صدر اس نئی حقیقت کے ساتھ باہمی بقاء پر مجبور ہو جائے گا۔

اس بحران کی بازگشت ایک ماہ قبل عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کے واشنگٹن کے دورے کے بعد سے سنائی دے رہی ہے۔ الکاظمی اور ٹرمپ کی ملاقات نے مثبت فضا کا بھرپور تاثر دیا۔ عراقی وزیر اعظم کے ہمراہ وفد کے افراد نے بھی یہ کہا کہ ان کی حکومت کے امریکیوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور عراقیوں کی جانب سے عراق میں امریکیوں کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔ دورے میں امریکیوں نے الکاظمی کو واضح طور پر یہ پیغام دیا کہ وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ عراقی حکومت اپنے ملک میں زمینی صورت حال پر کنٹرول حاصل کر لے گی۔

امریکیوں کے نزدیک مصطفی الکاظمی ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کو یہ اقدام کرنا ہو گا۔ الکاظمی کو وسیع پیمانے پر عوامی، سیاسی اور سیکورٹی تائید حاصل ہے۔ کرد ، سنی اور آدھے سے زیادہ شیعہ عراقی یہ خیال کرتے ہیں کہ الکاظمی کی حکومت اور امریکا یہ دونوں استحکام کے لیے اہم کردار ہیں۔

تاہم مصطفی الکاظمی کے واشنگٹن کے دورے کے بعد گزرنے والے تین ہفتوں کے دوران بغداد میں امریکی موقف کے اندازے نے پلٹا کھایا۔ امریکی دارالحکومت میں سفارتی ذرائع نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ امریکیوں نے اب یہ سمجھنا شروع کر دیا ہے کہ الکاظمی ایران نواز جماعتوں کا مقابلہ کرنے میں اپنی حکومتی طاقت استعمال کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ عراقی وزیر اعظم نے تہران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں پر ضرب لگانے کے لیے سیکورٹی اداروں کو استعمال نہیں کیا۔

مذکورہ ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو مزید بتایا کہ یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ عراقی حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی طور مطمئن نہیں ہو سکے۔ وہ امریکی سفارت کاروں پر ہونے والے حملوں کو روکنے میں کامیاب نہیں رہے۔

امریکیوں نے تیسرے ہفتے کے اختتام پر اپنے طور سے خود کی حفاظت کے لیے اقدامات کا فیصلہ کر لیا۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے عراقی صدر برہم صالح اور پھر وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کو ٹیلی فون کر کے انہیں امریکی فیصلے سے آگاہ کر دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ عراقی صدر کے ساتھ پہلا ٹیلی فونک رابطہ اتوار 20 ستمبر کو ہوا تھا۔ تاہم امریکی وزارت خارجہ کے بیانوں میں اس کا کوئی اثر ظاہر نہ ہوا۔ علاوہ ازیں عراقی وزیر اعظم کے ساتھ پومپیو کی ٹیلی فونک بات چیت کا بھی کوئی سرکاری اشارہ نہیں دیا گیا۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک ذمے دار نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "ہم غیر ملکی سربراہان کے ساتھ سفارتی بات چیت پر تبصرہ نہیں کرتے ہیں"۔ ذمے دار کے مطابق امریکی ملازمین اور امریکی تنصیبات کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے امریکی حکومت عراقی شراکت داروں کے ساتھ کام کا جائزہ لینے کی خواہاں ہے۔

تاہم "ناکامی" کا مںظر نامہ کئی گنا طاقت ور ہے۔ واشنگٹن میں العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ذرائع کے مطابق اس میں بغداد میں امریکی سفارت خانے کی بندش اور اسے عراقی کردستان منتقل کرنا ،، اور امریکی پالیسی کے انتظامی امور کو بغداد کے بجائے اربیل سے چلانا شامل ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو عراقی صدر اور وزیر اعظم کو اس بات سے آگاہ کر چکے ہیں۔

اس کا مطلب ہوا کہ بغداد میں سفارت خانے کی بندش یا پھر برطانیہ ، فرانس اور دیگر ممالک کی طرح سفارتی مشن میں کمی سامنے آئے گی۔ اس کے علاوہ امریکی شہری عراقی کردستان کا رخ کریں گے جہاں انہیں کسی خطرے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرنے والے سفارتی ذرائع نے باور کرایا ہے کہ امریکیوں کا عراق سے انخلا کا اردہ نہیں بلکہ وہ عین الاسد کے فوجی اڈے کو برقرار رکھیں گے جو امریکیوں کے لیے تزویراتی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے ذریعے واشنگٹن شمال مشرقی شام میں اپنی فورسز کو سپورٹ کرتا ہے۔ اسی طرح وہ اربیل کے اڈے کو بھی باقی رکھیں گے۔ عراق میں کم از کم 2500 امریکی فوجی جدید ترین ہتھیاروں کے ساتھ موجود ہوں گے۔

واشنگٹن میں سفارت کاروں کے مطابق یہ اقدام امریکی سفارت کاروں اور ملازمین کی الحشد الشعبی ملیشیا کے حملوں سے حفاظت کرے گا۔ مزید یہ کہ امریکیوں کے لیے اس بات کا موقع ہو گا کہ وہ امریکی افراد یا تنصیبات کی سلامتی کی فکر کیے بغیر ایران کی ہمنوا ملیشیاؤں پر کاری ضرب لگا سکیں۔

امریکی دارالحکومت میں واشنگٹن کے حامیوں اور تہران کے مخالفین کو اندیشہ ہے کہ بغداد سے کسی بھی قسم کے امریکی خروج کا مطلب یہ ہے کہ امریکا ناقابل واپسی اقدامات کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت امریکی عراقی تعلقات کی ایک نئی نوعیت سامنے لائے گی۔ انعلقات کو کنٹرول کرنے والا امریکی وجود بغدا میں نہیں بلکہ عراقی کردستان میں ہو گا۔

واشنگٹن کے مذکورہ حامیوں نے اس بات سے بھی خبردار کیا ہے کہ امریکیوں اور عراقیوں کے درمیان اعتماد ٹوٹ جائے گا جیسا کہ گذشتہ موسمِ خزاں میں شامی کردوں اور امریکیوں کے درمیان ہوا تھا۔ اس کا یہ مطلب بھی ہو گا کہ ایران اور اس کی ملیشیائیں امریکیوں پر فتح یاب ہونے کا اعلان کر دیں گی۔ وہ اسے ایرانی دباؤ کا نتیجہ سمجھیں گے بالخصوص جب کہ تہران عراق اور خطے سے امریکیوں کے نکل جانے کا مطالبہ کرتا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ کے ذمے دار نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو تحریری بیان میں بتایا کہ "امریکا بیرون ملک کام کرنے والے اپنے مرد و خواتین کے لیے کسی بھی قسم کے خطرے سے درگزر ہر گز نہیں کرے گا ، واشنگٹن ان ملازمین کے تحفظ کے واسطے ضروری اقدامات کرنے میں ہر گز نہیں ہچکچائے گا"۔