.

ترکی کے لڑاکا طیاروں کی شمالی عراق میں کردوں کے گاؤں پر بم باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے جنگی طیاروں کی جانب سے عراق کے شمال میں ایک سرحدی کرد گاؤں کو بم باری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے نمائندے کے مطابق العمادیہ ڈسٹرکٹ کے علاقے دیرلوک میں 8 میزائل آ کر گرے۔ نمائندے نے واضح کیا کہ بم باری کا نشانہ بننے والا علاقہ شہری نوعیت کا ہے جہاں کردستان ورکرز پارٹی کا کوئی جنگجو موجود نہیں۔

اس سے قبل ترکی کے جنگی طیاروں نے عراق کے شمال میں کردستان ریجن کے اندر بالخصوص بازی نامی گاؤں میں بم باری کی۔ غالب گمان ہے کہ کارروائی میں کردستان ورکرز پارٹی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

ترکی نے بغداد حکومت کی جانب سے شدید مذمت کے باوجود بم باری کے ذریعے عراق کی خود مختاری پامال کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ عراقی حکومت بغداد میں ترکی کے سفیر کو ایک سے زیادہ مرتبہ طلب کر کے اپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کرا چکی ہے۔

واضح رہے کہ ترکی کئی ماہ سے عراق میں کردستان ورکرز پارٹی کے خلاف باقاعدگی سے حملے کر رہا ہے۔ انقرہ حکومت کے مطابق عراقی حکومت اور کردستان ریجن کی انتظامیہ نے کرد پارٹی کی روک تھام کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا۔

یاد رہے کہ ترکی نے رواں سال جون سے شمالی عراق میں کردستان ورکرز پارٹی کے خلاف یکے بعد دیگرے دو فوجی آپریشن شروع کر رکھے ہیں۔ اس دوران اربیل اور دیگر کرد علاقوں پر کئی بار بم باری اور گولہ باری کی گئی۔