.

قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر فوری عمل درآمد ہونا چاہیے: یمن میں امریکی سفارت خانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں امریکی سفارت خانے نے یمن میں قیدیوں کے تبادکلے کے معاہدے کے لیے اقوام متحدہ کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو سراہا ہے۔

امریکی سفارت خانے نے ٹویٹر پر کہا کہ "ہم اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اور صلیبِ احمر کی بین الاقوامی تنظیم کی جانب سے ایک بار پھر فریقین سے یہ اپیل دہرا رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر اس معاہدے پر عمل درامد کرے"۔

سفارت خانے کے مطابق فریقین کی جانب سے معاہدے کی پابندی اور اس پر عمل درامد تمام یمنیوں کے لیے امن کے حوالے سے ایک نمایاں اقدام کے مترادف ہو گا۔

دوسری جانب یورپی یونین نے باور کرایا ہے کہ یمن میں قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ اسٹاک ہوم معاہدے پر عمل درامد کی راہ ہموار کرے گا۔ یونین نے زور دیا کہ قیدیوں کے تبادلے کے سمجھوتے پر مکمل طور پر عمل کیا جائے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے انتونیو گوٹیرس کی جانب سے یمن میں قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے خیر مقدم کا اعلان کیا۔ یمن میں آئینی حکومت اور حوثیوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت فریقین کی حراست میں موجود 1081 قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جانا ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے فریقین پر زور دیا کہ وہ تمام بقیہ گرفتار شدگان کی رہائی کی خاطر انتظامات کو حتمی صورت دیں۔

علاوہ ازیں تمام فریقوں سے اس بات کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ مل کر بیٹھیں تا کہ ایک مشترکہ اعلان کے حوالے سے سمجھوتا طے پا سکے۔ اس سمجھوتے میں ملکی سطح پر فائر بندی، اقتصادی اور انسانی تدابیر اور جنگ کے خاتمے کے لیے ایک جامع اور بھرپور سیاسی عمل کا دوبارہ آغاز شامل ہو۔

یاد رہے کہ یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ یمن میں آئینی حکومت اور حوثی ملیشیا فریقین کے بیچ 1081 قیدیوں کے تبادلے اور اور اس سمجھوتے کے فوری طور پر نافذ العمل ہونے اور قیدیوں کی فوری رہائی پر آمادہ ہو گئی ہے۔ سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق گریفتھس نے زور دیا کہ "معاہدے پر عمل درامد کے لیے ہمیں جلد اور فیصلہ کن طور پر حرکت میں آنا چاہیے"۔

خصوصی ایلچی نے یمن میں فائر بندی اور ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کے دوبارہ کھولے جانے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یمن میں قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ دیگر اختلافات کے حل کی جانب پہلا قدم ہے۔

گریفتھس نے باور کرایا کہ اقوام متحدہ یمن کے استحکام اور ایک مستقل حل تک پہنچنے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔