.

اسرائیلی پارلیمنٹ میں ہنگامی حالت کے دوران مظاہروں کو محدود کرنے کا قانون منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی ریاست کی پارلیمنٹ نے کل کو ایک ترمیم بل کی منظوری دی ہے جس کے تحت حکومت اور وزیراعظم کو کرونا وبا کی وجہ سے عاید کی گئی پابندیوں اور ہنگامی حالت کے دوران احتجاجی مظاہرے روکنے یا انہیں محدود کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
اسرائیلی اپوزیشن نے اس ترمیمی بل کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا مقصد کرونا کی آڑ میں وزیراعظم کی کرپشن پران کے استعفے کے لیے ہونے والے احتجاج کو روکنا ہے۔
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو ماہ سے نیتن یاھو کی بدعنوانی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ حکمراں جماعت لیکوڈ اپنے حامیوں کے ساتھ مل کر احتجاج کو دبانا چاہتی ہے۔
آج بدھ کے روز پارلیمنٹ (كنيسٹ) میں‌اس بل پرہونے والی رائے شماری میں 46ارکان نے اس کی حمایت جب کہ 38 نے مخالفت کی۔
گذشتہ روز اسرائیلی پارلیمنٹ میں اس بل پر رائے شماری کی گئی تھی تاہم حکمراں اتحاد بل کی حمایت میں ارکان کو قائل کرنے میں ناکام رہا تھا۔
خیال رہے کہ اسرائیل میں 18 ستمبر سے کرونا کی وبا کے پیش نظر دوبارہ لاک ڈائون کیا گیا ہے۔ حکومت نے تین ہفتوں کے لیے تعلیمی ادارے، ثقافتی اور مذہبی تقریبات پرپابندی عاید کی ہے۔
ادھر اسرائیلی وزارت صحت کے مطابق صہیونی ریاست میں کرونا کے متاثرین کی تعداد دو لاکھ 37 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جب کہ اموات کی تعداد 1528 بتائی جا رہی ہے۔