.

امارات نے یو این سلامتی کونسل کی غیرمستقل رکنیت کے لیے امیدوار بننے کا اعلان کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات نے اقوم متحدہ کی سلامتی کونسل میں 2022 سے 2023 کی مدت کا غیر مستقل رکن بننے کیلئے اپنے امیدوار ہونے کی باضابطہ مہم کا آغاز کردیا ہے۔

اس بات کا اعلان یو این کی عمومی بحث کے 75 ویں جنرل اسمبلی اجلاس میں متحدہ عرب امارات کی طرف سے وزیر برائے امور خارجہ و بین الاقوامی تعاون شیخ عبداللہ بن زاید النھیان نے کیا۔ شیخ عبداللہ کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات اپنے ان اصولوں اور نقش قدم کی پیروی جاری رکھے گا جو اس نے بین الاقوامی امن وسلامتی کے قیام کی خاطر کونسل کے رکن ممالک کے ساتھ تعاون کیلئے اپنی بنیادوں میں استوار کیئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کو ان سنجیدہ چیلنجز اور ذمہ داریوں کا ادراک ہے جن کا سلامتی کونسل کا رکن ہونے کے ناطے سامنا ہوتا ہے، متحدہ عرب امارات ریاستوں کو درپیش اہم امور کو عزم و حوصلہ سے حل کرانے کیلئے اہم ذمہ داری کا احساس رکھتا ہے اور اپنے اس عزم کا ایک بار پھر اعادہ کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عرب خطہ کے تناظر میں بحرانوں کے بارے میں متحدہ عرب امارات کا افہام و ادراک بہت اہم ہے ۔ اس تناظر میں عرب امارات کے دیگر ممالک سے تعلقات بھی اہمیت کے حامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عرب امارات بحرانوں کے مستقل حل کو تلاش کرنے اور ایسے اہداف کے حصول میں علاقائی تنظیموں کو ساتھ لے کر چلتا رہے گا۔ جون 2021 میں یو این جنرل اسمبلی نے سلامتی کونسل کے ان پانچ غیر مستقل ممالک کا انتخاب کرنا ہے جو کہ 2022 سے 2023 کی مدت کیلئے منتخب ہونگے۔ متحدہ عرب امارات 1971 میں اپنے قیام کے بعد سے ہی اقوام متحدہ کا رکن چلا آرہا ہے ، اس سے قبل یو این سلامتی کونسل میں وہ 1986 سے 1987 کی مدت میں اس کا رکن بھی رہ چکا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے یواین سلامتی کونسل کی غیرمستقل رکنیت کیلئے " مضبوط متحد " کے عنوان سے اپنی مہم شروع کی ہے اور اس کوشش میں اس کی توجہ جدید مربوط ، تخلیقی اولیت ، محفوظ امن اور پرعزم حوصلہ پر مرکوز ہے۔

یو این میں متحدہ عرب امارات کی مستقل نمائندہ سفیر لانا نسیبۃ کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل میں ذمہ داریاں انجام دینا ایک بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔ یواین جنرل کونسل میں متحدہ عرب امارات ہمیشہ سے ایک تعمیری کردار کا حامل شراکت دار ہے اور اس نے اپنے وقت کے سنجیدہ ترین اور اہم ترین چیلنجز سے نمٹنے میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ 19 کی عالمی وباء نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ ہم ایک باہم رابطہ والی دنیا میں رہتے ہیں جب تک ہر ملک محفوظ نہیں تب تک کوئی ملک بھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔

متحدہ عرب امارات اس تناظر میں صنفی مساوات کے فروغ، رواداری کو مستحکم بنانے، انسداد دہشت گردی وشدت پسندی، ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے تیاری کرنے، انسانی ہمدردی کو ترجیحات میں شامل رکھنے، صحت کے عالمی بحرانوں سے نمٹنے اور امن کیلئے تخلیق کو فروغ دینے کی خاطر ہمیشہ تیار رہا ہے۔ اسی عزم کے تحت متحدہ عرب امارات آنے والے برسوں میں بھی اہم چیلنجز سے نمٹنے میں سلامتی کونسل کی مدد و معاونت کیلئے کام کرتا رہے گا۔