.

سوڈان: 3 لاکھ غیر قانونی ہتھیار ایک دھماکے میں تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں سرکاری فوج کی جانب سے ملک بھر میں پھیلے غیر قانونی اسلحے کو برآمد کرنے کی مہم کے دوران جمع کیے گئے 3 لاکھ سے زیادہ ہتھیاروں کو تباہ کر دیا گیا۔ یہ ہتھیار کئی دہائیوں تک جاری رہنے والی خانہ جنگ کے نتیجے میں ملک کے مختلف حصوں میں پھیل گئے تھے۔ مذکورہ ہتھیاروں کو دارالحکومت خرطوم سے 200 کلو میٹر دور واقع فوجی اڈے "حجر العسل" میں ایک دھماکے میں تباہ کیا گیا۔ یہ پیش رفت گذشتہ ماہ سوڈانی حکومت اور "سوڈان انقلابی محاذ" کے درمیان دستخط ہونے والے فائر بندی کے سمجھوتے کے بعد سامنے آئی ہے۔ سوڈان انقلابی محاذ 5 باغی گروپوں اور 4 سیاسی تحریکوں پر مشتمل ہے۔ اس سمجھوتے کے نتیجے میں دو دہائیوں تک جاری رہنے والا تنازع اختتام پذیر ہو گیا۔ اس دوران متاثرہ علاقوں بالخصوص دارفور میں لاکھوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اس سمجھوتے کے تحت باغی جنگجوؤں کو بتدریج سرکاری سیکورٹی فورسز کے ساتھ مشترکہ یونٹوں میں ضم کیا جائے گا۔

ہتھیاروں کو تلف کرنے کی کارروائی کی نگرانی کے ذمے دار سوڈانی عبوری کونسل کے رکن ابراہیم جابر کے مطابق "غیر قانونی طور پر ہتھیار رکھنے پر روک لگانے کے لیے بعض نہایت سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اسلحہ صرف باقاعدہ فورسز کے ہاتھوں میں ہو گا"۔ معلوم رہے کہ "چھوٹے ہتھیاروں کے خاتمے" کی تنظیم جس کا صدر دفتر جنیوا شہر میں ہے ،،، اس نے 2017ء میں سوڈان کے اندر 27.6 لاکھ ہتھیاروں کا شمار کیا تھا۔ یہ تناسب ہر 50 افراد پر 3.3 ہتھیار بنتا ہے۔

یاد رہے کہ 1956ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے سوڈان میں وقفے وقفے سے خانہ جنگی دیکھی جاتی رہی۔ ان میں 1983ء سے 2005ء تک جاری رہنے والی جنگ بھی شامل ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک کا جنوبی حصہ علاحدہ ہو گیا۔ اسی طرح دارفور میں 2003ء سے بھڑکا ہوا تنازع جس کے دوران معزول صدر عمر البشیر کی فورسز نے معرکہ آرائی میں حصہ لیا۔