.

کتابیں جن کا شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری نے عربی زبان میں ترجمہ کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری کی جانب سے عالمی زبانوں میں شائع ہونے والی کتابوں عربی زبان میں ترجمہ کیا جا رہا ہے۔ دوسری زبانوں میں شائع ہونے والی کتابوں کے عربی میں تراجم کا مقصد بین الاقوامی سطح پر سائنس اور عالمی ثقافتوں کےبارے میں عرب قارئین کو آگاہی فراہم کرنا، علما اور محققین کے لیے بین الاقوامی سطح‌پر ہونے والی علمی کانوشوں تک رسائی اور ان کے لیے علم ودانش کے نئے دروازے کھولنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری کی جانب سے ٹیکنالوجی، سائنس، تاریخ، لٹریچر اور سفر ناموں سے متعلق کتب کے عربی میں تراجم شائع کیے جا رہے ہیں۔

تیس ستمبر کو دنیا بھر میں ترجمے کا عالمی دن منایا گیا۔ اس دن کی مناسبت سے شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری کی جانب سے انگریزی، فرانسیسی، جرمن، روسی، اسپانوی اور جاپانی زبانوں‌ میں تراجم شایع کیے گئے ہیں۔

دوسری زبانوں سے عربی میں ترجمہ کی جانے والی کتب میں فریڈرک وولور ڈیلانچسٹر کی انفارمیشن اینڈ ایڈمنسٹریشن سروز برائے لائبریری و سائنس' ، سائنس وٹیکنالوجی، لائبریری اور ویب سائٹ کے موضوع پر لکھی گئی اوڈری گروش کی کتاب ترجمہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ خاتون مصنفہ انکسٹر وآمی وارنر کی مصنوعی ذہانت اور سسٹم، ڈاکٹر لانکسٹر وش بیکر کی انفارمیشن و لائبریری سروسز ، جیمز کلیفورڈ کی عالم گیریت میں جزیرۃ العرب، شارول سان برو کی سلفی مستقبل انقلاب اور مغرب کے درمیان، ھائنز گائوبہ کی طائف:بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور ابھرتا ہوا عرب شہر، یویس بیسن کی ابن سعود شاہ صحرا،'آر ای چیس مین' کی گمنام جزیرہ العرب، تاکیشی سوزوکی کی 'جاپانی ان مکہ' محمد اسد کی روڈ ٹو مکہ، آری چیز مین کی جزیرہ العرب، الیزار بیتھ مونر کی فیلپی جزیرۃ العرب، البرخت زیمہ کی مغربی سیاحوں کے سفر کے ایک سو سال، اللیدی ایفلین کوبولڈ کی کتاب حج مکہ تک، ھلین آڈمزکیلر کہ اور تین دن اور روشن ہوتے اور سائنس اور فکری اساس کے موضوع پر الین اسفینونیس کی کتاب کا عربی میں ترجمہ کیا گیا۔