.

اسرائیل کی جانب سے لبنان میں مبینہ اسلحہ فیکٹری کی وڈیو جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے بیروت کے مضافات کی ویڈیوز ریلیز کی ہیں جن میں حزب اللہ کی مبینہ میزائل فیکٹریاں دکھائی گئی ہیں۔ حزب اللہ نے ہمیشہ سے بیروت کے نواحی علاقے میں ایسے کارخانوں کی موجودگی کے دعووں کو مسترد کیا ہے۔

اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے رواں ہفتے حزب اللہ پر الزام لگایا تھا کہ تنظیم کی بیروت اور اس کے مضافات میں میزائل بنانے اور محفوظ رکھنے کی املاک موجود ہیں اور انہوں نے کسی دھماکے کی صورت میں ایک اور سانحے سے خبردار کیا۔

یاد رہے کہ 4 اگست کو بیروت کی بندرگاہ کے گودام میں رکھے گئے ہزاروں ٹن بارودی مواد کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر آگ لگ گئی تھی جس کے نتیجے میں ہونے والے دھماکے سے شہر بھر میں تباہی پھیل گئی تھی۔

نیتن یاہو نے بارہا حزب اللہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ اسرائیل پر حملے کرنے کے لئے میزائل بنا رہی ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اسرائیلی وزیر اعظم پر جوابی الزام لگایا کہ نیتن یاہو لبنانی عوام کو حزب اللہ کے خلاف اکسا رہے ہیں۔ انہوں نے ٹی وی پر نشر ہونے والے خطاب میں کہا "ہم بیروت بندرگاہ پر راکٹ نہیں رکھتے اور نہ ہی ان کو کسی آتش گیر مواد کے قریب رکھتے ہیں۔ ہم میڈیا نمائندوں کو مشتبہ مقام پر لے جا کر فیکٹری کا معائنہ کروائیں گے تاکہ وہ معلوم کر سکیں کہ وہاں پر میزائل بنائے جاتے ہیں یا نہیں۔"

عالمی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے صحافی سمیت درجنوں افراد کو بیروت کے مضافات میں موجود ایک فیکٹری میں لے جایا گیا جہاں انہوں نے دو منزلہ عمارت میں بھاری سامان تیار کرنے والی مشینری دیکھی۔ حزب اللہ کے ترجمان کے مطابق یہ عمارت ایک عام صنعتی یونٹ ہے۔

اسرائیلی فوج نے اپنے ٹویٹر اور وٹس ایپ اکائونٹ پر ویڈیو شائع کی ہے جس میں بیروت کی اسی فیکٹری کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ اسرائیلی ویڈیو کے مطابق عمارت میں لیزر کٹنگ مشین، ایک ہائیڈرالک کٹنگ مشین، ایک رولنگ مشین اور ایک دھاتوں کو شکل دینے والی مشین دیکھی جاسکتی ہے۔ یہ تمام مشینری گائیڈد میزائل تیار کرنے کے لئے ضروری ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ انہوں نے بیروت کے لیلاکی اور شعیفات کے علاقوں میں رہائشی عمارتوں کے نیچے میزائلوں کے گودام کا سراغ لگایا ہے۔