.

ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قدر میں کمی، گورنر سینٹرل بنک ایران کا ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے مرکزی بنک کے گورنرعبد الناصر ہمتی نے ایرانی کرنسی کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں غیر مسبوق گراوٹ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران پر عاید کی گئی تازہ پابندیوں کے نفسیاتی اثرات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ امریکا نے حال ہی میں ایران پر 'اسنیپ بیک' میکانزم کے تحت ایران پر سابقہ پابندیاں دوبارہ لاگو کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ایرانی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں دھڑام سے نیچے آ گری۔

قابل ذکر ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران ایران میں ڈالر اور دیگر غیر ملکی کرنسیوں کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ تہران میں فری کرنسی مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت تین لاکھ تومان سے زیادہ ہو گئی۔

ہمتی نے جمعہ کو اپنے انسٹاگرام پیج پر لکھا کہ مرکزی بینک اور بینکاری پابندیوں کے باوجود مرکزی بینک نے گذشتہ دو سالوں کے دوران ادویات اور بنیادی اشیاء کی درآمد پر توجہ دینے کی کوشش کی ہے۔ بیرون ملک سے امریکی پابندیوں کے باعث بیرون ملک سے کرنسی کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ امریکا نے پابندیوں کے ذریعے ہماری معیشیت کو تباہ کرنے کی منظم کوشش کی ہے۔

تاہم "سنیپ بیک اور ٹرگر میکانزم کا اطلاق اور ایرانی مالیاتی نظام پر مکمل پابندی عاید کرنے کے اعلان نے ایرانی کرنسی کو غیر معمولی نقصان پہنچایا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ ہفتے کے اوائل میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں "اسنیپ بیک" کے تحت ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی تمام پابندیوں کی واپسی کا اعلان کیا گیا تھا۔