.

پارلیمنٹ تحلیل کیے جانے کے بعد اردنی حکومت بھی سبکدوش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم کی جانب سے پارلیمنٹ تحلیل کیے جانے کے بعد حکومت نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔

شاہ عبد اللہ دوم کی طرف سے چند روز قبل اردنی پارلیمنٹ تحلیل کر دی تھی جس کے بعد گذشتہ شام حکومت نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ شاہ عبداللہ دوم نے نئی حکومت کی تشکیل تک موجودہ حکومت کو عبوری طورپر ذمہ داریاں ادا کرنے کے احکامات دیے ہیں۔

اردن کے شاہی دیوان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہےکہ وزیراعظم عمر الرزاز کی قیادت میں کابینہ نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ الرزاز کو نئی حکومت کی تشکیل تک ذمہ داریوں کی انجام دہی کا سلسلہ جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ اردنی قانون کے تحت وزیراعظم کا استعفیٰ پوری کابینہ کا استعفیٰ تصور کیا جاتا ہے۔

گذشتہ 27 ستمبر کو اردنی فرمانروا شاہ عبد اللہ دوم نے پارلیمنٹ تحلیل کرنے اور 10 نومبر کو پارلیمنٹ کے دوبارہ انتخابات کا حکم دیا تھا۔ پارلیمنٹ کو اس کی چار سالہ مدت پوری ہونے کے بعد تحلیل کیا گیا ہے۔ اردن میں منتخب پارلیمنٹ کی چار سال مقرر ہے۔

دستور کے تحت پارلیمنٹ تحلیل کیے جانے کے ایک ہفتے کے اندر اندر کابینہ کو استعفیٰ دینا ضروری ہوتا ہے۔ مملکت کے فرمانروا کو سبکدوش ہونے والی حکومت کو نئی حکومت کی تشکیل تک ذمہ داریاں انجام دینے کا اختیار سونپا جاتا ہے۔