.

ایران نے اسٹاک ایکسچینج میں 30 لاکھ شہریوں کو کس طرح دھوکا دیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تہران اسٹاک ایکسچینج ایران میں مرکزی مالیاتی مارکیٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ گذشتہ عرصے کے دوران یہاں فروخت کی بڑی لہر کے ساتھ انڈیکس میں شدید مندی دیکھی گئی۔ اس کے نتیجے میں مقامی سرمایہ کاروں اور شہریوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

تجزیہ کاروں نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ ایرانی حکومتی کمپنیوں کے آئی پی او مالیاتی مارکیٹ میں اس دوران پیش کیے گئے جب اسٹاک مارکیٹ میں بھرپور تیزی کے بعد کریکشن آ رہی تھی۔

تہران اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز کاروبار کے اختتام پر مرکزی انڈیکس میں تقریبا 28٪ کی کمی دیکھی گئی۔ یہ حکومتی کمپنیوں کے حصص مارکیٹ میں پیش کرنے کے اعلان کے کئی ماہ بعد اگست میں واقع ہونے والی انتہائی تیزی کے بعد اب تک کی شدید ترین مندی ہے۔

تہران کی فنانشل مارکیٹ کے ایک تجزیہ کار نے برطانوی اخبار کو شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ "تمام تر صورت حال سے فائدہ اٹھانے والا واحد فریق ایرانی حکومت ہے۔ اس نے اپنے اثاثوں کی فروخت سے رقم حاصل کی اور ساتھ ہی مارکیٹ میں زائد سیالیت کو جذب کرنے کے ساتھ کرنسی مارکیٹ میں دیکھے جانے والے تناؤ میں بھی کمی لانے میں بھی کامیابی حاصل کی۔ لہذا متاثرہ فریق ایرانی شہریوں میں شامل سرمایہ کار افراد رہے"۔

ایک اور ایرانی ماہر معیشت سعید لیلاز نے مارکیٹ میں فروخت کی حالیہ لہر کو بُلبلہ قرار دیا جس کو ایرانی حکومت کی جانب سے پھلایا گیا تھا۔ شہریوں کی جانب سے ریکارڈ سطح پر خریداری کے بعد یہ بلبلہ پھٹ گیا۔

برطانوی اخبار کے مطابق ایرانی میڈیا نے رواں سال مارچ سے جولائی کے درمیان ایرانی مالیاتی مارکیٹ میں قدم رکھنے والے نئے ایرانی سرمایہ کار شہریوں کی تعداد کا اندازہ 30 لاکھ تک لگایا ہے۔ واضح رہے کہ حکومتی اثاثوں کی فروخت کا پروگرام متعارف کرائے جانے سے قبل سرماریہ کاروں کی تعداد صرف 6 لاکھ کے قریب تھی۔

البتہ ایرانی کرنسی کی قدر میں کمی اور حصص میں واقع ہونے والے خساروں نے ایرانیوں کی اپنی ضروریات زندگی کے پورا ہونے کے حوالے سے امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اس چیز کو کرنسی کی قدر میں گراوٹ اور تہران پر عائد امریکی پابندیوں نے شدید ضرر پہنچایا۔

ایک 37 سالہ ایرانی خاتون روقیہ نے برطانوی اخبار کو بتایا کہ "میں نے رواں سال جون میں اپنی جمع پونجی سے تقریبا 10 کروڑ ایرانی ریال (جو اس وقت 524 امریکی ڈالر کے مساوی رقم تھی) اسٹاک ایکسچینج میں لگائے ، یہ رقم میں نے واشنگ مشین خریدنے کے لیے رکھی ہوئی تھی۔ اس دوران ہوا یہ کہ واشنگ مشین کی قیمتیں تو تقریبا دو گنا بڑھ گئیں جب کہ اسٹاک ایکسچینج میں مندی کے سبب میری سرمایہ کاری کی قدر کم ہو کر تقریبا 80٪ رہ گئی۔

ایرانی حکومت نے رواں سال کی ابتدا میں اپنے اثاثوں کی فروخت کا سہارا لیا تا کہ کرونا وائرس کے حوالے سے درپیش شدید دباؤ میں کمی لائی جا سکے۔ حکومت کے مطابق وبا کے باعث 50 لاکھ افراد اپنی ملازمتوں س ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ یہ ملک کی کُل افرادی قوت کا تقریبا 20٪ ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کی جانب سے رواں سال مارچ میں جاری ہونے والی دستاویز کے مطابق ایران کی معیشت میں رواں سال کے دوران تقریبا 18.5٪ کا سکڑاؤ آئے گا۔ اس سے قبل 2019ء کے دوران یہ تناسب 9٪ رہا تھا۔

ایرانی حکومت نے رواں سال عام میزانیے میں تقریبا 20٪ رقم یعنی 36.6 ارب ڈالر کے قریب کرونا وائرس کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مختص کیے ہیں۔ اس حوالے سے خود مختاری فنڈ سے ایک ارب یورو کی رقم نکالی گئی۔

واضح رہے کہ 1960ء کے بعد ایران کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تہران نے 5 ارب ڈالر کا قرضہ حاصل کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مدد طلب کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں